Letter to Editor   Contact Us About Us Home
 

نئی دہلی ۔ بی جے پی کے حق میں ماحول بنانے کے لئے پول سروے کی جعل سازی کرنے والی کمپنیاں آج کل طرح طرح کے جھوٹے سروے مختلف ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے ذریعہ منظرعام پر لا رہی ہیں ۔ فرضی سروے کے نتائج اس انداز میں پیش کئے جا رہے ہیں کہ جیسے ملک میں صرف اور صرف نریندر مودی کے حق میں ہی ماحول ہے ۔ ان سروے کمپنیوں کا عالم یہ ہے کہ وہ ہر ہفتے بی جے پی کی کم سے کم دس سیٹیں بڑھا دیتی ہیں اور بڑی بے شرمی سے یہ بھی لکھتی ہیں کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے اس ہفتے بی جے پی نے کتنی سیٹیں بڑھا لی ہیں ۔ این سی نیلسن جیسی کمپنی نے جنوری کے آخر میں کہا کہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو ملک بھر میں دو سو چھبیس لوک سبھا سیٹیں ملے گی ، پھر فروری کے دوسرے ہفتے میں اسی کمپنی نے کہا کہ اب بی جے پی کی سیٹیں بڑھ کر دو سو چھتیس ہو گئی ہیں ۔ اس کمپنی نے جنوری میں کانگریس کی قیادت والے یو پی اے کو ایک سو ایک سیٹیں ملنے کی پیشین گوئی کی تھی تو فروری میں کہا کہ کانگریس قیادت والے یو پی اے کو صرف بانوے سیٹیں مل رہی ہیں ۔ جس انداز میں یہ سروے کمپنیاں جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہیں اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن ہونے تک یہ کمپنیاں ملک کی تمام پانچ سو تینتالیس لوک سبھا سیٹیں بی جے پی کو ہی دلا دیں گی ۔ سروے کمپنیوں نے تو طے کر لیا ہے کہ کانگریس ختم ہو گئی ۔ تاہم سروے کمپنیوں کا یہ اندازہ صد فیصد جھوٹ ہی ہے ۔ کانگریس کی سیٹیں آندھرا پردیش کے علاوہ اترپردیش سمیت کسی بھی ریاست میں بہت کم نہیں ہو رہی ہیں ۔ آندھرا پردیش اور راجستھان میں کانگریس کو جو نقصان ہوگا ، اس کی بھرپائی کرناٹک سے ہونے کی پوری امید ہے ۔ جس بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ جھوٹی سروے کمپنیاں اتر پردیش میں تیس سے چالیس سیٹیں دلوا رہی ہیں اس بی جے پی کی حالت یہ ہے کہ لکھنؤ ڈویژن کی نو لوک سبھا سیٹوں میں ایک لکھنؤ کینٹ کے موجودہ ایم پی لال جی ٹنڈن کے علاوہ باقی سیٹوں کے لئے کوئی مضبوط امیدوار نہیں مل پا رہا ہے ۔ اب تو ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے سی ووٹر اور این سی نیلسن سمیت ایک درجن سروے کمپنیوں کا اسٹنگ آپریشن کرکے دنیا کو بتا دیا کہ یہ کمپنیاں حرام کا کالا دھن کھا کر سروے کی غلط رپورٹ پیش کرتے ہیں ۔

Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved. Web Editor: Shahidul Islam