تہران(ایجنسیں):بائیس سالہ مھسا امینی کی پولیس حراست کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اب 244 مظاہرین کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ ساڑھے بارہ ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ بات ایک انسانی حقوق گروپ سے متعلق ایک نئی سائٹ اور خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔
حقوق گروپ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق ان ہلاک ہونے والوں میں 32 بچے، بھی شامل ہیں۔ اس گروپ کا تخمینہ ہے کہ 16 ستمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے مجموعی طور 12516 شہریوں کو حراست میں لیا گیا اور 28 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔یہ احتجاج کچھ ہی عرصے میں سیاسی احتجاج کا رنگ اختیار کر گیا اور اس نے ملک کے طول و عرض کو گھیرے میں لے لیا۔
آپ کو بتادیں کہ کل ہی یہ خبر بھی آئی تھی کہ ایران میں 14غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ان سب نے ملک میں جاری بد امنی کی لہر میں کردار ادا کیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ ایرaنی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک امریکہ اور روس سمیت مختلف ممالک کے شہریوں گرفتار کیا ہے۔ ان گرفتار کیے گئے غیر ملکیوں میں زیادہ تعداد افغانی شہریوں کی ہے۔
تاہم دوسرے اہم ممالک جن کے باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں برطانیہ، فرانس اور آسٹریا بھی شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں البتہ یہ نہیں بتایا ہے کہ انہیں کب اور کہاں کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے۔نیز یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت نے 30 ستمبر کو جن 9 غیر ملکیوں کو گرفتار کیا تھا وہ بھی ان 14 میں شامل ہیں یا یہ تعداد پہلے والوں کے مقابلے نئی ہے۔
واضح رہے ایران میں سولہ ستمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد مسلسل بدامنی کی فضا ہے۔ یہ مظاہرین بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت پر ملک کے طول وعرض میں احتجاج کر رہے ہیں۔












