منگل, فروری 17, 2026
  • Login
Hindustan Express
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper
No Result
View All Result
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper
No Result
View All Result
Hindustan Express
Epaper
No Result
View All Result
Home أخبار خاص خبریں

ملک میں 6 ماہ کے درمیان 255 نفرت انگیز تقاریر:رپورٹ

Hindustan Express by Hindustan Express
ستمبر 26, 2023
in خاص خبریں
0
ملک میں 6 ماہ کے درمیان 255 نفرت انگیز تقاریر:رپورٹ
0
SHARES
17
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

واشنگٹن میں قائم "ہندوتواواچ” نامی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا

نئی دہلی: واشنگٹن میں قائم "ہندوتواواچ” نامی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان میں رواں برس کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران مسلمانوں کے خلاف روزانہ اوسطاً ایک سے زیادہ مرتبہ نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور یہ صورت حال ان ریاستوں میں زیادہ نمایاں رہی جہاں اگلے چند ماہ کے دوران ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔
ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات پر نگاہ رکھنے والی اس تنظیم کے مطابق سن 2023 کی پہلی ششماہی میں مختلف میٹنگوں اور پروگراموں کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 255 واقعات رپورٹ کیے گئے۔ حالانکہ جرمن خبررساں ادارہ "ڈوئچ ویلے” کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سابقہ برسوں کا کوئی تقابلی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔
"ہندو واچ ” کے دعوے کے مطابق اس نے نفرت انگیز تقریر کے متعلق اقوام متحدہ کی طے کردہ تعریف کو مدنظر رکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ "ابلاغ کی کوئی بھی ایسی شکل، جس میں مذہب، نسل، قومیت، رنگ، جنس یا دیگر شناختی عوامل کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ کے لیے متعصبانہ یا امتیازی زبان استعمال کی جائے۔”
اس رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 70 فیصد واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں سن 2023 اور 2024 میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے واقعات اب عام ہیں اور یہ معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں پارلیمان میں بھی اس کا افسوس ناک مظاہرہ ہواتھا۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن رمیش بدھوڑی نے مسلم رکن پارلیمان کنور دانش علی کے خلاف جس طرح کے "نازیبا الفاظ” استعمال کیے اس کی ایک بڑے حلقے کی جانب سے مذمت بھی کی جا رہی ہے، لیکن افسوسناک صورتحال یہ بھی ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے زیادہ تر قائدین اس ایشو پر خاموش ہیں،کچھ ایک نے لب کشائی کی بھی تو الٹے بد زبانی کرنے والے بی جے پی لیڈر کی حرکت کو ہی جائز ٹھہرانے کی کوشش کی۔
بہوجن سماج پارٹی کے رکن پارلیمان دانش علی نے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے پچھلے دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "کیا آرایس ایس کی شاکھاؤں اور نریندر مودی جی کی لیبارٹری میں یہی سکھایا جاتا ہے؟ آپ کا کیڈر جب ایک منتخب رکن پارلیمان کو پارلیمنٹ میں … ایسے توہین آمیز الفاظ کہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تو وہ عام مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتا ہوگا؟ یہ سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔”
یاد رہے کہ اس سے قبل جون میں بی جے پی کی حکومت والی اتراکھنڈ ریاست میں دیواروں پر ایسے پوسٹر چسپاں ملے تھے جن میں مسلمانوں کو علاقہ چھوڑ کر چلے جانے کی وارننگ دی گئی تھی۔ ‘دیو بھومی رکشا ابھیان’ نامی ایک ہندو گروپ نے یہ پوسٹر چسپاں کیے تھے۔
اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایتیں کرتی رہی ہیں،لیکن ان فکر مندیوں کا حکومت ہند کا بہ ظاہر کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملتا۔حد تو یہ ہے کہ "ہیٹ اسپیچ” کا معاملہ عدالت عظمیٰ کی توجہ کا بھی کئی بار مرکز بن چکا ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کئی بار گہری تشویش ظاہر کی جاچکی ہے،لیکن اس کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی چاہتا ہے،منہ اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے لگ جاتا ہے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں خطاواروں پر ایکشن نہیں لیتیں۔کچھ معاملوں میں رسمی ایف آئی آر درج کرکے معاملہ کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش کرلی جاتی ہے۔
بہر حال !ہندوتوا واچ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں دیکھنے میں آئے۔ صرف مہاراشٹر میں، جہاں بی جے پی حکومت کا حصہ ہے، ایسے 29 واقعات درج کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر نفرت انگیز تقریروں کے دوران سازشی نظریات کا ذکر کیا جاتا ہے جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔ مقررین نے ہندووں سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور ان کے سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے تک کا مطالبہ کیا۔ ان واقعات میں سے تقریباً 80 فیصد ان ریاستوں میں پیش آئے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت سن 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بار پھر اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے نفرت انگیز تقریروں کے ذریعہ ہندو ووٹرو ں کی صف بندی کرنا چاہتی ہے۔
ہندوتوا واچ کے مطابق اس نے ہندو قوم پرست گروپوں کی آن لائن سرگرمیوں کا سراغ لگایا، سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی نفرت انگیز تقاریر کی تصدیق شدہ ویڈیوز دیکھیں اورمیڈیا میں رپورٹ کیے گئے واقعات کی بنیاد پر اپنی یہ رپورٹ تیار کی ہے۔
مودی حکومت نے ہندوتوا واچ کی اس رپورٹ پر فی الحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم وہ اقلیتوں کے ساتھ کسی طرح کی تفریق یا بدسلوکی کی خبروں سے انکار کرتی رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سن 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور منافرت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

Tags: نفرت انگیز تقاریرہندوتواواچواشنگٹن
ShareTweetSend
Previous Post

مصر میں صدارتی انتخابات کااعلانیہ جاری

Next Post

خواتین کو نیم بے ہوش کر کے ان پر جنسی حملوں کی ویڈیوز بنانے والا پادری گرفتار

Hindustan Express

Hindustan Express

Next Post
خواتین کو نیم بے ہوش کر کے ان پر جنسی حملوں کی ویڈیوز بنانے والا پادری گرفتار

خواتین کو نیم بے ہوش کر کے ان پر جنسی حملوں کی ویڈیوز بنانے والا پادری گرفتار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

خبریں

امریکہ میں خاندانی جھگڑا،ہند نژاد خاتون سمیت چار  ہلاک

امریکہ میں خاندانی جھگڑا،ہند نژاد خاتون سمیت چار ہلاک

جنوری 24, 2026
تعلیمی اداروں کو ڈریس طے کرنے کا اختیارہے:عدالت عظمیٰ

اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر معاملہ میں مرکز کی اپیل مسترد

جنوری 19, 2026
ہندوستان اور یو اے ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہندوستان اور یو اے ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

جنوری 19, 2026
اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا قومی سطح کا پروگرام 2 اکتوبر سے شروع ہوگا

بہار میں صنعت کاروں کو اقتصادی پیکیج فراہمی: نتیش کمار

جنوری 19, 2026
مرکزی الیکشن کمیشن کی ٹیم کا آئندہ ماہ دورہ تلنگانہ

ترنمول کانگریس کو الیکشن کمیشن کا سخت انتباہ

دسمبر 31, 2025
لالو یادو کے قریبی امیت کاتیال کو ای ڈی نے کیا گرفتار

رائے پورسمیت دس مقامات پر ای ڈی کا چھاپہ

دسمبر 31, 2025
سنجے راوت کی ضمانت منظور

سنجے راوت کو ملی بم سے اڑانے کی تحریری دھمکی

دسمبر 31, 2025
سی پی آئی کا صد سالہ یومِ تاسیس

سی پی آئی کا صد سالہ یومِ تاسیس

دسمبر 26, 2025
500 کروڑ سے زائد کی جی ایس ٹی چوری کاانکشاف

500 کروڑ سے زائد کی جی ایس ٹی چوری کاانکشاف

دسمبر 26, 2025
انڈیگو بحران پرتحقیقاتی کمیٹی  کی رپورٹ حکومت کے سپرد

انڈیگو بحران پرتحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ حکومت کے سپرد

دسمبر 26, 2025

Categories

  • Featured
  • آئینہ شہر
  • آج کی خبریں
  • أخبار
  • اخبارجہاں
  • افکارِ جہاں
  • الیکشن
  • بزم شمال
  • بزنس
  • بہار نامہ
  • پارلیمانی خبریں
  • جرائم
  • جہانِ اردو
  • جہانِ طب
  • حادثہ
  • حقوق انسانی
  • خاص خبریں
  • خدمتِ خلق
  • خصوصی پیشکش
  • دلچسپ
  • دہلی نامہ
  • دیارِ ملت
  • دیار وطن
  • دیارِادب
  • سائنس و تحقیق
  • سیاست
  • عالم اسلام
  • عدلیہ
  • فلسطین- اسرائیل جنگ
  • فن فنکار
  • قدرت کاقہر
  • قوس قزح
  • کانفرنس
  • کشمیرنامہ
  • کھلاخط
  • کھیل ایکسپریس
  • متحرك
  • مذہبی خبریں
  • موسيقى
  • میرا کالم
  • ہمسایہ

Tags

احتجاج اسرائیل اقوام متحدہ الیکشن الیکشن کمیشن امریکہ انتخابات اپوزیشن ایران اے ایم یو بنگلہ دیش بھارتیہ جنتا پارٹی بہار بی جے پی تلنگانہ جامعہ ملیہ اسلامیہ جموں وکشمیر حماس حکومت خواتین دہلی راجستھان راہل راہل گاندھی سپریم کورٹ عام آدمی پارٹی غزہ فلسطین لوک سبھا لوک سبھا انتخابات مسلمان ممبئی مودی مہاراشٹر نیشنل کانفرنس وزیر اعظم وزیر اعلیٰ پارلیمنٹ پاکستان کانگریس کرناٹک کشمیر کیجریوال ہماچل پردیش ہندوستان
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions

Web Editor: Shahidul Islam
.Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved

No Result
View All Result
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper

Web Editor: Shahidul Islam
.Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In