نئی دہلی(ہندوستان ایکسپریس نیوز ڈیسک/ایجنسیاں)امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سنیچر کو ایران پر کیے گئے مشترکہ حملے کے بعد تہران نقصان سے متعلق تفصیلات سامنے آنے لگ گئی ہیں۔اس درمیان خبر رساں ادارے روئٹرز نے سوشل میڈیا پر موجود چند ایسی تصاویر کی تصدیق کی ہے جن میں تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تباہی کا منظر نظر آتا ہے۔دریں اثناء ایران میں ہلال احمر کے ترجمان مجتبیٰ خالدی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں آج امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک 201 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ترجمان مجتبیٰ خالدی کے مطابق ان حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 747 ہے جبکہ ایران کے 31 میں سے 24 صوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس درمیان ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد اُن کا ملک اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے تمام تر فوجی وسائل استعمال کرے گا۔

امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کا منظر
ان دھماکوں کے درمیان خبر ہے کہ ایران میں ایک مقامی گورنر نے ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کو بتایا ہے کہ ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے ضلع میناب میں لڑکیوں کے پرائمری سکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔حالانکہ الجزیرہ نے اسکول پر حملہ کے واقعہ میں 84 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔ادھرہرمزگان کے گورنر محمد ردمہر نے ارنا کو بتایا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں’شجرہ طیبہ‘ نامی لڑکیوں کا سکول نشانہ بنا۔ گورنر کے مطابق اس حملے میں 63 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ایران کے محکمہ تعلیم کے ترجمان علی فرہادی نے ارنا کو بتایا کہ اتوار کے روز سکول کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔بی بی سی اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ یاد رہے کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو ویزوں کا اجرا نہیں کیا جاتا ہے جس کے باعث خبروں کی آزادانہ تصدیق میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایران میں اس وقت تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی ہے۔

تہران میں تباہی کے مناظر
ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عراق سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور اُن سے گفتگو کی ہے۔بیان کے مطابق اس گفتگو کے دوران انھوں نے مسلم ممالک کے رہنماؤں سے کہا کہ ایران اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے اور اپنے حقِ دفاع کے تحت ’تمام دفاعی اور فوجی صلاحیتوں‘ کو بروئے کار لائے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عراقچی نے اِن ممالک کو یہ بھی یاد دہانی کروائی ہے کہ یہ اُن (ممالک) کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں اور سہولیات کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے استعمال کرنے روکیں۔

تہران میں اسرائیل اور امریکی حملے کے بعد کی ایک اور تصویری جھلک
دریں اثناء ایران کی وزارت خارجہ نے اسرائیل اور امریکہ کے آج کے حملوں پر کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حملے اس وقت کیے گئے جب کہ ’ہم نے ایک بار پھر بین الاقوامی نظام اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ایرانی قوم کی جائز اور قانونی حیثیت کو ثابت کرنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں‘۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کی مسلح افواج ’جارح ممالک کو مکمل اختیار کے ساتھ جواب دیں گی‘۔ایرانی وزارت خارجہ نے ’اقوام متحدہ کے رکن ممالک، علاقائی اور اسلامی ممالک اور ناوابستہ تحریک کے اراکین‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی مذمت کریں اور ان کے خلاف ’فوری اور اجتماعی کارروائی‘ کریں۔بیان میں ایران پر آج صبح کے حملوں کو ’تاریخ کا ایک عظیم امتحان’ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایران ’جارحیت کرنے والوں کو اپنے مجرمانہ فعل پر پچھتاوا کرے گا‘۔
خاص بات یہ بھی ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن کے مطابق آج اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فصائی حملے میں ملک کے سینیئر سیاسی حکام اور آرمی چیف مارے گئے ہیں۔ایرانی صدر کے ایگزیکٹو ڈپٹی نے ایکس پر لکھا کہ ’صدر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔‘صدر کے بیٹے یوسف پزشکیان نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ان کو قتل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی‘۔ایرانی فوج نے اپنے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی کی ہلاکت کی تردید کی ہے اور فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔واضح رہے کہ اسرائیل ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے تہران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں۔












