تہران: ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ ’برادر پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ واضح کیا جا سکے کہ ایران صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کر رہا ہے‘۔امریکی ادارے این بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امریکہ ہمارے عوام پر حملہ کر رہا ہے اور ایسے ایران خاموش نہیں بیٹھے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ ’افسوسناک ہے کہ اہداف دوستانہ ریاستوں میں واقع ہیں‘۔انھوں نے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ امریکی انتظامیہ کیوں ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر اصرار کرتی ہے اور پھر بات چیت کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیتی ہے۔‘ عباس عراقچی نے کہا کہ ’یہی بات گذشتہ جون میں بھی ہوئی تھی، جس کی عمان کے وزیرِ خارجہ نے بھی اس کی تصدیق کی تھی‘۔عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کیا۔ شاید امریکی انتظامیہ کو اس میں گھسیٹا گیا ہو۔ لیکن ایک بات مجھے معلوم ہے: ایران اُن لوگوں کو سزا دے گا جو ہمارے بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ ہماری دشمنی امریکی عوام سے نہیں ہے، جنھیں ایک بار پھر جھوٹ بتایا جا رہا ہے‘۔
اسی درمیان ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بَقائی کا کہنا ہے کہ وہ ’اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ تصدیق کر سکیں‘ کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی ایران کی اعلیٰ قیادت محفوظ ہے یا نہیں۔اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے این بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ’زندہ ہیں‘ جہاں تک اُنھیں علم ہے، لیکن شاید ایران کے ایک یا دو کمانڈرز مارے گئے ہیں۔اطلاعات کے بعد کہ خامنہ ای کے دفاتر اور رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی بی سی نیوز کی چیف انٹرنیشنل نمائندہ لیز ڈوسیٹ نے اسماعیل بقائی سے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرنے کو کہا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’میں یہ بتا سکتا ہوں کہ ملک بھر میں کئی مقامات، کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 150 سے زیادہ لڑکیاں ہلاک اور زخمی ہوئیں۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (اِرنا) نے پہلے خبر دی تھی کہ ملک کے صوبہ ہُرمزگان میں ایک لڑکیوں کے سکول پر حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔جب اُنھیں بتایا گیا کہ سمجھا جا رہا ہے کہ سکول پاسداران انقلاب کے ایک اڈے کے قریب تھا، تو اُنھوں نے جواب دیا کہ ’یہ محض ظلم اور سنگین جرم کو معمول کا مدعا بنانے کا ایک طریقہ ہے۔‘دیگر عرب ممالک پر بھی ایران کی جانب سے حملے کی اطلاعات ہیں۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ نے ان ممالک کو ایران کے خلاف جارحانہ حملے کرنے کے لیے استعمال کیا، اور مزید کہا کہ ’ہم اپنے دوستوں کی قدر کرتے ہیں‘۔اُنھوں نے کہا کہ ’ہم خطے کے کسی ملک پر حملہ نہیں کر رہے، ہمیں اپنے عرب پڑوسیوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم صرف وہی کر رہے ہیں جو ایک دفاعی اقدام ہے، ان (امریکی) اڈوں پر‘۔











