نئی دہلی: اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ہندوستان کی راجدھانی دہلی،اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو اور کشمیر کی راجدھانی سرینگر سمیت متعدد شہروں سے احتجاج کی خبر موصول ہورہی ہے۔دہلی کے جنتر منتر پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کی ایران مخالف شرانگیزی کی مذمت کی۔

خبروں کے مطابق ایران کی جانب سے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی امریکی۔اسرائیلی حملے میں شہادت کی تصدیق کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اترپردیش، جموں و کشمیر، تلنگانہ، دہلی اور کرناٹک سمیت کئی ریاستوں میں شیعہ برادری نے سوگ، احتجاج اور یکجہتی کے پروگراموں کا اعلان کیا۔ لکھنؤ میں شیعہ رہنماؤں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے ایک ویڈیو بیان میں سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے مسلم برادری اور انسانیت دوست طبقات سے اپیل کی کہ بطور احتجاج اپنی دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھیں۔ انہوں نے ملک بھر کی شیعہ برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں تعزیتی اجتماعات منعقد کریں۔شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا یعسوب عباس نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ شیعہ مون کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس نقوی نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے فلسطین کے مسئلے پر ہمیشہ آواز بلند کی۔
جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں اتوار کو شیعہ برادری کے بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ شہر کے مرکزی علاقے لال چوک میں مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے پیر کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
ریاست کرناٹک کے بعض علاقوں میں بھی سوگ اور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ قصبہ علی پور میں شہری سیاہ لباس پہن کر سڑکوں پر نکل آئے اور تین روز تک دکانیں بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کے رکن ناطق علی پوری نے کہا کہ خامنہ ای کی ہلاکت نے مقامی لوگوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق مقامی انجمن نے قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا ہے جبکہ جلوس نکالنے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے جو پولیس اجازت سے مشروط ہوگا۔
بنگلورو میں انجمن اسلامیہ کے صدر سید زمین رضا نے اسکری مسجد میں خاموش احتجاج کی منصوبہ بندی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اسرائیلی کارروائی کی مذمت کے لیے ہوگا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
تلنگانہ کے حیدرآباد میں بھی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد زبردست احتجاج کیا گیا۔ اسی طرح دہلی میں بھی شیعہ برادری نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ شیعہ کمیونٹی کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ اگرچہ جذبات شدید ہیں تاہم تمام احتجاج پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔
ادھر کشمیر سے خبر ہے کہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور دیگر شیعہ آبادی والے علاقوں میں اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ سری نگر کے لال چوک میں واقع گھنٹہ گھر میں آج اتوار کی صبح سینکڑوں مظاہرین جمع ہوئے اور خامنہ ای کے قتل کے خلاف سوگ منایا۔ پلوامہ، بڈگام اور وادیٔ کشمیر کے دیگر شیعہ آبادی والے علاقوں میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ سوگواروں نے خامنہ ای کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ احتجاج کے پیش نظر، احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے علاقوں میں تعینات پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے ساتھ سکیورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ دریں اثنا، جموں و کشمیر میں پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ اس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی جنہوں نے امریکی اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہادت حاصل کی ہے کی تعزیت میں آج کو ہونے والی تمام سیاسی سرگرمیاں ملتوی کر دی ہیں۔ ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ اس نے ایرانی رہنما پر وحشیانہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے غیر انسانی، وحشیانہ اور بزدلانہ عمل قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے اس عظیم نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرنے کے لیے پارٹی کی جانب سے تعزیت اور احتجاج درج کرانے کی قیادت کی۔ "پارٹی نے سپریم لیڈر کی شہادت پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اور کارکن دکھ اور درد میں ایران کے ساتھ برابر کے شریک ہیں”۔











