حیدرآباد: آندھراپردیش حکومت نے آبادی کی شرح میں اضافہ کیلئے منفرد اسکیم کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت تیسرے بچہ کی پیدائش کی صورت میں ڈیلیوری کے وقت 25,000 روپئے کی امداد دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے پاپولیشن مینجمنٹ پالیسی کا مسودہ ریاستی اسمبلی میں پیش کیا،جس کے تحت ریاست میں شرح پیدائش کو 1.5 فیصد سے بڑھاکر 2.1 کرنے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ ف
یملی پلاننگ اور دیگر ذرائع سے آبادی پر کنٹرول کے نتیجہ میں نوجوانوں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے اور معمرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس فرق کو ختم کرنے کیلئے چندرا بابو نائیڈو نے پاپولیشن مینجمنٹ پالیسی تیار کی ہے۔ اسکیم کے تحت تیسرے بچہ کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کیلئے 25,000 روپئے امداد کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان، اٹلی اور ساؤتھ کوریا میں نوجوان آبادی میں کمی کا سامنا ہے۔
چندرا بابو نائیڈو نے یکم اپریل سے نئی اسکیم پر عمل آوری کا منصوبہ بنایا ہے۔ ٹاملناڈو میں پیدائش کی شرح 1.4 اور کیرالا میں 1.6 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کیا گیا تو ریاست کی 23 فیصد آبادی معمرین پر مشتمل ہوگی اور سرکاری اور خانگی شعبہ میں ورک فورس کی کمی واقع ہوگی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ڈیلیوری کے وقت امداد کے علاوہ پانچ برسوں تک ماہانہ ایک ہزار روپئے کی امداد دی جائے گی اور بچہ کو 18 سال کی عمر تک مفت تعلیم کا انتظام رہے گا۔












