پٹنہ (یواین آئی) اردو اور ہندی کے معروف شاعر، ادیب اور افسانہ نگار قاسم خورشید منگل کی صبح پٹنہ کے سلطان گنج میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 65 برس تھی۔ان کی نمازِ جنازہ بدھ کی صبح 10 بجے شاہ اَرزاں میں ادا کی جائے گی اور تدفین شاہ گنج قبرستان میں عمل میں آئے گی۔
قاسم خورشید کئی شعری مجموعوں کے خالق تھے۔ ان کا پہلا افسانہ’روک دو‘ مئی 1977 میں شائع ہوا تھا۔ اب تک ان کے تقریباً پچاس افسانے ملک کی معیاری رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’تھکے ہوئے لوگ‘ اشاعت کے مرحلے میں ہے۔شاعری اور افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے ڈرامے، ریڈیو فیچر اور تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے۔ وہ نہ صرف اردو میں بلکہ ہندی میں بھی کہانیاں لکھتے تھے اور ہندی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کرنے کا کام بھی کرتے رہے۔
قاسم خورشید اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے ادیبوں کے درمیان یکساں طور پر مقبول تھے۔ ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن تکنیکی آپریشن اے آئی بی ڈی (ملیشیا، سی آئی ای ٹی)۔ آئی ایس آر او احمد آباد۔اسکرپٹنگ کورس (سی آئی ای ٹی، نئی دہلی) وغیرہ کورس کئے اور ڈائریکٹر انچارج ایجوکیشنل ٹیلی ویژن بہار کے عہدے پر فائز ہیں۔
قاسم خورشید الیکٹرانک پرنٹ میڈیا کے ماہر، ممتاز فکشن نگار، ڈرامہ نگار اور شاعر تھے، جو ہندی، اردو اور انگریزی تینوں زبانوں میں تخلیق کرتے تھے۔ ان کے 22 کتابیں مختلف اصناف میں شائع ہو چکی ہیں، جن میں ڈرامے، شاعری، کہانیاں اور تنقید شامل ہیں۔ ان کی تازہ ترین تصانیف’دستکیں خاموش ہیں‘ اور’دل کی کتاب‘ ہیں۔
قاسم خورشید کو ان کی فکشن تخلیقات پر صدرِ جمہوریہ ہند نے بھی اعزاز سے نوازا، جن میں’در سے آگے‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ حال ہی میں انہوں نے بحرین میں منعقدہ عالمی مشاعرے میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔انہوں نے درجنوں دستاویزی فلمیں اور ٹیلی فلمیں تخلیق کیں اور طویل عرصے تک تعلیمی ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر اِنچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔













