9 مہینے سے خالی پڑے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے چیئرمین کے عہدہ پر جلد از جلد تقرری کا تقاضا
نئی دہلی(پریس ریلیز):اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک اہم میٹنگ دریاگنج، نئی دہلی میں زیرصدارت ڈاکٹر سیّد احمد خاں منعقد ہوئی۔ انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ذاتی تعلقات نبھانے تک یہ قومی ادارہ محدود ہوگیا ہے۔ اغراض و مقاصد کے حصول میں مکمل طور سے ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے میں ہی ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے۔ ہندی اردو کے ساتھ علاقائی زبانوں کو اہمیت دینا بھارت کے سیکولر کردار کی ضمانت ہے۔
ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے مزید کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، اردو کے فروغ و بقا اور ترقی کے لیے ایک قومی ادارہ ہے لیکن یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس کی سرگرمیاں محدود ہوتی جارہی ہیں۔ محض چند مشہور قلم کاروں کی کتابوں کی اشاعت سے اردو کی بقا اور ترقی ممکن نہیں۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو ہر فرد سے جوڑنے کی کوشش کی جائے اورا س کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اردو کو روزگار سے جوڑے بغیر اس کی ترقی ممکن نہیں ہے اس لیے اس کو روزگار سے جوڑنے کے لیے ماہر لسانیات نے جو تجاویز اور سفارشات پیش کی ہیں ان کی روشنی میں اقدام کیا جائے۔ نیز 9 مہینے سے خالی پڑے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے وائس چیئرمین کے عہدے پر جلد از جلد تقرر کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ہر زبان کو اس کا آئینی حق ملا ہوا ہے لیکن زمینی سطح پر یہ دیکھا جارہا ہے کہ اردو زبان، جس کا جنگ آزادی میں اہم رول رہا ہے اس کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے اور اس کو منظم اور منصوبہ بند طریقے سے ایک خاص فرقے سے مربوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔
میٹنگ میں مہمان خصوصی پروفیسر غلام قطب چشتی نے اردو کے حوالے سے کہا کہ اترپردیش میں عوامی مقامات پر اردو تحریر ایک اچھا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا‘ کی حقیقت یہی ہے کہ اردو عوامی مقامات پر تحریر کی جائے۔ اردو کی تعریف کی ضرورت نہیں ہے، اردو بازار میں بھی دکھائی دے اور اردو پڑھنے والوں کو ہر حکومت ٹیچر مہیا کرانے کی ذمہ داری نبھائے۔ اہم شرکاءمیں ابوالوفا خاں چھتہوی، مفتی محبوب احمد خاں قاسمی، حافظ محمد ایوب فاروقی، حکیم رشید بیگ دہلوی، کامریڈ بی ایل بھارتی، کامریڈ رام بابو، حکیم عطاءالرحمن اجملی، حکیم آفتاب عالم، حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی، حکیم اعجاز احمد اعجازی، نجمہ بیگم، ڈاکٹر کلدیپ سنگھ اور محمد عمران قنوجی وغیرہ شامل ہیں۔












