نئی دہلی، 21 جون (یو این آئی) لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نعرے لگانے کے فن میں مہارت حاصل ہے لیکن وہ حل پیش کرنے میں زیرو ہیں۔مسٹر راہل گاندھی نے آج ‘ایکس’ پر کہا کہ وزیر اعظم کے ‘میک ان انڈیا’ اسکیم کے باوجود ملک میں مینوفیکچرنگ ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گئی ہے، نوجوانوں کی بے روزگاری ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی ہے اور چین سے درآمدات دوگنی ہو گئی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ "مسٹر نریندر مودی نے نعرے لگانے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے لیکن حل دینے میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے اب تک ہماری معیشت میں مینوفیکچرنگ کا حصہ گھٹ کر 14 فیصد رہ گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم اسمبل کرتے ہیں، درآمد کرتے ہیں لیکن مینوفیکچرنگ نہیں کرتے ہيں۔ چین کو اس سے فائدہ ہو رہا ہے۔”
مسٹر راہل گاندھی نے آج ‘ایکس’ پر ویڈیو پوسٹ کیا ہے جس میں وہ دو نوجوانوں شیوم اور سیف سے مل رہے ہیں، جو یہاں نہرو پلیس میں موبائل فون کی مرمت کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "شیوم اور سیف سے نہرو پلیس پر ملاقات ہوئی، وہ باصلاحیت، ہنر مند اور صلاحیتوں سے آراستہ ہیں لیکن انہیں بروئے کار لانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ ہم اسمبل کرتے ہیں، درآمد کرتے ہیں لیکن مینوفیکچرنگ نہیں کرتے۔ چین اس سے منافع کما رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس کوئی نیا آئیڈیا نہیں ہے۔ انہوں نے خودسپردگی کردی ہے۔ یہاں تک کہ اہم اسکیم پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو اسکیم (پی ایل آئی) کو بھی خاموشی سے بند کیا جارہا ہے۔ مسٹر راہل گاندھی نے کہا، "اگر ہندوستان اپنی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتا ہے، تو ہم کسی دوسرے ملک کے لیے صرف مارکیٹ ہی بن کر رہ جائیں گے۔ ہندوستان کو اب ایماندارانہ اصلاحات اور مالی مدد کے ساتھ بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف بازار نہیں بلکہ صنعت کار بننا ہے۔”