نئی دہلی/رانچی(ہندوستان ایکسپریس نیوز بیورو/ایجنسیاں)جھارکھنڈ سے دہلی جانے والا چارٹرڈ طیارہ چترا میں گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ ایک ایئر ایمبولینس تھی جس میں سات افراد سوار تھے۔یہ ایک میڈیکل چارٹر پرواز تھی، جن میں ایک مریض، ایک ڈاکٹر، ایک پیرامیڈک، ایک اٹینڈنٹ، اور عملے کا ایک رکن شامل تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ طیارہ درحقیقت ایک طبی پرواز تھی جو سنجئے کمارنامی ایک مریض کو دہلی لے جا رہی تھی۔ جہاز میں سات افراد سوار تھے۔ ان میں مریض سنجئے کمار کے علاوہ ڈاکٹر وکاش کمار گپتا،ایک پیرامیڈک اسٹاف سچن کمار مشراکے ساتھ ہی مریض کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دو افراد ارچنادیوی اور دھرو کمار بھی فلائٹ کے سواروں میں شامل تھے۔فلائٹ کے پائلٹ وویک ووکاس بھگت اور ایک کو پائلٹ ساو راجدیپ سنگھ بتائے گئے ہیں۔

ایئر ایمبولینس میں رانچی سے دہلی منتقل کیے گئے مریض کی شناخت لاتیہار کے چندوا کے رہنے والے سنجے کمار کے طور پر کی گئی ہے۔ سنجے کو رانچی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھاجہاں سے انہیں بہتر طبی نگہ داشت کیلئے دہلی ایئر ایمبولنس کے ذریعہ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ۔چنانچہ ان کے ساتھ خاندان کے دو افراد ارچنا دیوی اور دھورو کمار بھی تھے،جنہوں نے مریض کے ساتھ سفر کا فیصلہ کیا۔
پرواز نے پیر کی شام 7:11 بجے رانچی سے اڑان بھری۔ طیارے سے رابطہ صبح 7:34 پر منقطع ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد، طیارہ سامریہ، چترا ضلع، جھارکھنڈ میں گر کر تباہ ہو گیا۔مقامی اخبار پربھات خبر کی اطلاع کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے طیارہ چترا کے سماریا تھانہ علاقے کے جنگلاتی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ شبہ ہے کہ تکنیکی خرابی یا کسی غلط سمت کی وجہ سے ایئر ایمبولینس سماریا جنگل کی طرف بڑھی اور رابطہ منقطع ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق ایئر ایمبولینس ریڈ برڈ ایوی ایشن کی تھی۔ سرچ آپریشن جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ائیر ایمبولینس چترا ضلع کے سماریا تھانہ علاقے میں کرماٹنڈ گاؤں کے قریب جنگل میں گر کر تباہ ہو گئی۔

طیارہ کا پیر کی شام ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ہندوستان ایکسپریس کو موصولہ خبر کے مطابق طیارہ کا رابطہ منقطع ہونے کے فوری بعد ایوی ایشن حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ۔ متعلقہ ایجنسیاں ریڈار ڈیٹا اور اس کے آخری گمشدہ مقام کی بنیاد پر طیارہ کا پتہ لگانے کی کوشش میں لگ گئیں۔ طیارہ کے ملبے کی متعدد تصاویر اور ویڈیوز اور اس سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں تاہم ابھی تک سرکاری پر اس کی تصدیق کا انتظار ہے۔
ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر (آر سی سی) کو حادثہ کے بعد رات 8:05 پر چالو کر دیا گیا۔
خاص بات یہ بھی ہے کہ مقامی باشندوں سے ایئر ایمبولینس کے حادثہ کا شکار ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد چترا ضلع کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور بچاؤ اور راحت کاری کا کام شروع کیا۔ڈی جی سی اے نے مزید بتایا کہ شام 7:34 بجے کولکتہ سے رابطہ کرنے کے بعد طیارہ کا راڈار اور ریڈیو سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر موجود ہے۔ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔











