نئی دہلی:کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج اپنے ایک بیان میں مذہب اور سیاست میں ’بھکتی‘ کا فرق سمجھایا اور کہا کہ اس کو نہیں سمجھا گیا تو خطرناک ہو سکتا ہے۔ انھوں نے بی آر امبیڈکر اسمارک جا کر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ایک ٹوئٹ کیا جس میں کہا کہ ’’مذہب میں بھکتی روح کو سکون پہنچانے کا راستہ ہو سکتی ہے۔ لیکن سیاست میں بھکتی یا ہیرو کی پوجا زوال اور تاناشاہی کی ایک یقینی راہ ہے۔‘‘
ملکارجن کھڑگے نے آج مولانا ابوالکلام آزاد کی مزار پر بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ٹوئٹ کر بتایا کہ ’’ایک انقلابی مجاہد آزادی اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا آزاد ہمارے ملک کی جمہوری اور سیکولر ساکھ میں یقین کرتے تھے اور مذہبی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے نظریات کے سخت مخالف تھے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے نومنتخب قومی صدر ملکارجن کھڑ گے جب ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم اور کانگریس کے سابق صدر مولانا ابوالکلام آزاد کے مزار پر گلپوشی کے لیے پہنچے تو اس موقع پر راجیہ سبھا رکن ناصر حسین اور کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر و راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی موجود بھی موجود تھے۔
Remembering the contribution of our forefathers, Congress President Shri @Kharge pays floral tribute at Maulana Abul Kalam Azad’s Mazar and Dr. BR Ambedkar Memorial in the national capital. pic.twitter.com/p6tNvT1z6y
— Congress (@INCIndia) October 28, 2022
واضح رہے کہ اسی ماہ کانگریس صدر انتخاب میں فتحیاب ہونے کے بعد بدھ کو ملکارجن کھڑگے نے نئے صدر کے طور پر ذمہ داری سنبھالی۔ انھوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس بابا صاحب کے اائین کو آر ایس ایس کے آئین سے بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کانگریس ایسا نہیں ہونے دے گی۔‘‘












