تہران:ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوگئی ہے،جس کی تصدیق ایران نے بھی کر دی ہے۔اسی کے ساتھ ایران سے یہ خبر بھی آئی ہے کہ رہبر اعلیٰ کی موت کے بعد ایرانی حکومت نے 40 روزہ سوگ اور 7 دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ میں بھی یہ بتایا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے ملک پر امریکہ اور اسرائیل کے جاری حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور پوتے بھی مارے گئے۔ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران میں ایک اسکول پر حملے میں کم از کم 108 افراد ہلاک اور 24 صوبوں میں کم از کم 201 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کے جوابی حملوں نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک بشمول قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن، سعودی عرب اور عراق میں اسرائیل اور امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔حملوں کے تبادلے کے درمیان خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کی صبح ہونے والے حملے میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسہ ہلاک ہو گئے ہیں۔فارس نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای کی ایک بہو بھی ان حملوں میں ہلاک ہو گئی ہیںٗ۔اس سے قبل خامنہ ای کی بہو اور داماد کی ہلاکت کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں جنھیں بعد میں مسترد کر دیا گیا تھا۔دوسری جانب امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ایک انٹیلی جنس اور ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں تقریباً 40 ایرانی حکام ہلاک ہوئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تمام افراد ایک ہی مقام پر موجود تھے یا مختلف جگہوں پر۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کور کمانڈر اور وزیر دفاع بھی شامل ہیں۔ تاہم ایران نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی تصدیق نہیں کی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ پر لکھا ہے کہ ’تاریخ کے سب سے برے آدمیوں میں سے ایک خامنہ ای کو ہلاک کر دیا گیا ہے‘۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ نہ صرف ایران کے لوگوں کے لیے بلکہ ان تمام عظیم امریکیوں اور دنیا کے مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور ان کے خونخوار ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے یا معذور ہو گئے ہیں‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا تھاکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہوگئے ہیں،اس کے کچھ دیر بعد ایرانی سرکاری ٹی وی نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ٹروتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا’ تاریخ کے سب سے برے انسان خامنہ ای مر چکے ہیںٗ۔ٹرمپ نے کہا’ یہ نہ صرف ایران کے عوام کے لیے انصاف ہے بلکہ تمام امریکیوں اور دنیا بھر کے بہت سے ملکوں کے ان لوگوں کے لیے بھی جو خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں مارے گئے یا زخمی ہوئے‘۔ٹرمپ نے مزید لکھا ’یہ کارروائی جدید انٹیلی جنس اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون سے ممکن ہوئی۔ سپریم لیڈر، امریکی انٹیلی جنس اور جدید ٹریکنگ سسٹم سے بچنے میں ناکام رہے‘۔انہوں نے اس موقع کو ایرانی عوام کے لیے ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ’ بہت سے پاسداران انقلاب اور ایرانی فورسز کے اہلکار اب لڑنا نہیں چاہتے‘۔
اس سے قبل امریکہ اور اسرائیل نے سنیچر کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کیا جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای اب نہیں رہے۔ ایرانی میڈیا نے اس کی تردید کی۔عرب نیوز کے مطابق ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا تھا کہ ’ ایران اور امریکہ کے مشترکہ حملوں میں علی خامنہ ای مارے گئے، ان کی نعش مل گئی ہے‘۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سنیچر کو ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے حوالے سے تصدیق کیے بغیر کہا تھا کہ اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ خامنہ ای ’اب نہیں‘ رہے۔انہوں نے کہا کہ ’خامنہ ای کا کمپاؤنڈ تباہ کردیا گیا، پاسداران انقلاب کے کمانڈروں اور سینیئر جوہری حکام ہلاک بھی ہو چکے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانی عوام سے مخاطب ہوئے ہوئے کہا کہ ’وہ سڑکوں پر نکلیں اور یہ کام مکمل کریںٗ۔اس سے قبل ایران کے العام ٹیلی ویژن نے کہا تھا کہ خامنہ ای خطاب کریں گے لیکن سنیچر کو ایسی کوئی تقریر نشر نہیں کی گئی۔ایرانی میڈیا نے بتایا تھا کہ حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد، ایک بہو اور نواسہ ہلاک ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر بھی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ ایران کے شہروں میں دھماکوں سے بڑے پیمانے پر خوف وہراس پھیل گیا۔دوسری طرف سیکڑوں ایرانی اور ڈرون حملوں کے بعد پیٹناگون نے کہا ہے کہ’ کوئی امریکی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔‘بتادیں کہ اسرائیل نے کہا تھا کہ’ تقریبا 200 طیاروں نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا فلائنگ آپریشن مکمل کیا ہے جس میں ایران کے 200 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا‘۔امریکہ اور اسرائیل نے سنیچر کو ایران پر حملے میں اس کے اعلٰی رہنماوں کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے اسرائیل اور پڑوسی خلیجی ملکوں پر میزائل حملے کر کے اس کا جواب دیا۔











