دہرادون( یو این آئی) اتراکھنڈ کانگریس مسلسل انکیتا بھنڈاری کیس میں انصاف دلانے کا مطالبہ اپنی ہر تحریک اور مظاہرے میں کر رہی ہے۔ جمعرات کو ریاستی مہیلا کانگریس کی صدر جیوتی روتیلا اور جنرل سکریٹری شیوانی تھپلیال مشرا نے انکیتا کے معاملے میں انصاف حاصل کرنے کے لیے اپنا سر منڈواکراور ریاستی اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف دہرادون میں واقع وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراو کر کے احتجاج کیا ۔محترمہ روتیلا نے کہا کہ کانگریس مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اتراکھنڈ کی بیٹی انکیتا بھنڈاری کے قتل کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کروائی جائے، لیکن آج تک ان کے خاندان کو انصاف نہیں مل سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکیتا قتل کیس میں وی آئی پی کا نام ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔
ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر کرن مہرا نے کہا کہ انکیتا قتل کیس انسانیت کے لیے شرمناک اور دیو بھومی اتراکھنڈ کی شناخت کو داغدار کرنے والا واقعہ ہے۔ جس کے لیے مجرموں کو سزپھانسی کی سزا دی جائے۔ تاکہ ایسے جرائم کرنے والوں کو عبرت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں امن و امان کی صورتحال پوری طرح سے تباہ ہو چکی ہے اور بیٹی بچاو¿-بیٹی پڑھاو¿ کا نعرہ دینے والی بی جے پی حکومت میں خواتین پر ظلم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی بیٹی انکیتا کے ساتھ بی جے پی لیڈر کے ریزورٹ میں ہونے والے گھناو¿نے جرم کے بعد حکومت نے راتوں رات ثبوتوں کو تباہ کر دیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت میں مجرموں کو کھلا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر یشپال آریہ نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ملک کی ترقی کے لیے کام کیا ہے اور کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی کانگریس پارٹی اپنی انہی شاندار روایات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے کہا کہ اتراکھنڈ میں امن و امان نہیں ہے۔ خواتین کو آئے روز تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انصاف دینے کے بجائے انہیں مزید ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت ترقی کے نام پر ڈگڈگی بجا رہی ہے، لیکن ترقی کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے ملک کے عوامی اثاثوں کو فروخت کر کے اپنے من پسند لوگوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر بھون کپاڈی نے کہا کہ بی جے پی حکومت انتقام کے جذبے سے کام کر رہی ہے۔ کانگریس کارکنوں کو جگہ جگہ ہراساں کیا جا رہا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر کانگریس کارکنوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو کانگریس پارٹی سڑکوں سے ایوان تک مضبوطی سے لڑے گی۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراو کرنے والے تمام کانگریس لیڈروں اور کارکنوں کو پولیس نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیا۔ جب انہوں نے احتجاج کیا تو سب کو گرفتار کر کے پولیس لائن لے جایا گیا۔
مظاہرے میں خاص طور پر ریاستی کانگریس نائب صدر تنظیم متھرا دت جوشی، جنرل سکریٹری وجے سرسوات، سابق ایم ایل اے سنجیو آریہ، چیف ترجمان گریما مہرا دسوونی، میٹروپولیٹن صدر ڈاکٹر جسویندر سنگھ گوگی، مینا راوت، نجمہ خان، آشا منورما ڈوبریال، پرتیما سنگھ، سجاتا پال ارمیلا تھاپا، درشن لال، موہت اونیال، سشیلا بیلوال، اوشا راوت، انورادھا تیواری، کمجیت کور، پونم کینورا، رینو نیگی، اندو پنوار، انجو مشرا، سنتوش چوہان، الکا لامبا، ضلع مہیلا کانگریس صدر نیلم راوت، انشول تیاگی، کشوری دیوی، ریکھا سونکر، مینا شرما، پونم سنگھ، منی بشٹ، آشا راوت، ریکھا ڈھینگرا، تنیشا راوت، کویتا ماہی، کیلاش دیوی، شیش پال سنگھ بشٹ، راجیش چمولی، مکیش نیگی، پردیپ تھپلیال، مہنت ونے سارستو، وغیرہ سینکڑوں خواتین موجود تھیں۔