امارت شرعیہ کے دعاۃ ومبلغین کا چھ روزہ تربیتی اجتماع بحسن وخوبی اختتام پذیر
پھلواری شریف:امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے حکم وہدایت پر گذشتہ چھ دنوں سے متعلقہ چار ریاستوں بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے حضرات دعاۃ ومبلغین کا تربیتی اجتماع جاری تھا،جس کی آخری نشست پیغام ودعا کے ساتھ اختتام پذیرہوگئی۔واضح رہے کہ یہ تربیتی ورکشاپ اپنی نوعیت کا منفر دتھا، اس کے تمام فکری وعملی مضامین پہلے سے طے شدہ اور کئی مہینوں کے عرق ریزی کے نتیجہ میں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی زیرنگرانی ماہرعلماء ودانشوران کے ذریعہ تیارکرائے گئے تھے، موجودہ حالات،حضرا ت مبلغین کی ذات اور ملت اسلامیہ کی سماجی صورتحال اوران کی شدید ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ تربیتی اجتماع منعقد کیاگیا،سترہ مختلف عناوین اس پروگرام کا حصہ تھے،جن میں سے ہرموضوع نہایت اہمیت کا حامل تھا، ہرایک پر ماہر ٹرینرس اور بڑے علماء کرام نے تفصیل سے روشنی ڈالی، اس تربیتی اجتماع کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیاگیا۔
حضرت امیر شریعت مدظلہ نے تمام ٹرینرس کو بنفس نفیس تربیت سے متعلق ضروری ہدایات دیں اوراس کے اغراض ومقاصد سے آگاہ فرمایا، اس تربیتی اجتماع کا انعقاد اس لیے کیا گیا،تاکہ مبلغین اٹھنے والے نت نئے مسائل اور مختلف قسم کے فتنوں کا مقابلہ کرسکیں۔ تربیتی اجتماع کے افتتاحی نشست میں امارت شرعیہ کے تمام ذمہ داران نے ہونے والے اس تربیتی اجتماع کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی۔بعد ازاں: حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب نائب امیر شریعت بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ نے ‘‘موجودہ حالات اسلام کے پیغام کو گھرگھر پہونچانے کا بہترین موقع’’کے عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ موجودہ وقت میں مسلمانوں کو بے دین اور ایمان وعقیدہ سے برگشتہ کرنے کے لئے جو اسلام مخالف عناصر کام کررہے ہیں اورفتنہئ ارتداد کی لہر چل رہی ہے اس کے پیش نظر آپ علماء ومبلغین کا دعوتی فرض منصبی دوچند ہوگیاہے۔چند حقائق اور واقعات کا حوالہ دیکر بتایاکہ اگر آپ نے اپنے دعوتی عمل میں ذرہ برابر کوتاہی کی تو مسلمانوں کے طبقے کا طبقہ مرتد اور گمراہ ہوجائے گا، جس کی بابت کل بروز قیامت ہم تمام خدام دین وملت سے سوال ہوگا۔
جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب قائم مقام ناظم صاحب نے ‘‘امارت شرعیہ کی خدمات اور حالیہ عزائم کا تعارف’’کے عنوان پر جامع گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ امارت شرعیہ جیسی تنظیم پورے ملک میں نہیں ہیں،اس کے نظام میں اجتماعیت اور کتاب وسنت کی فکری وعملی روح کارفرماہے، آپ نے امارت شرعیہ کے عملی جدوجہد کو ریاست مدینہ اور خلافت راشدہ کا پرتو بتلایا،چار ریاستوں کی طویل آبادیوں میں شعبہئ دارالقضاء،شعبہئ دعوت وتبلیغ اور دیگر شعبے جات کے پھیلے ہوئے سلسلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ پورے ملک میں آپ ان کاموں کی مثال نہیں بتاسکتے،آگے انہوں نے امارت شرعیہ کے تمام شعبہ جات کی کامیاب کارکردگی اوراس کے حالیہ عزائم واہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ آپ امارت شرعیہ کی فکر کے امین ہیں،آپ پوری مضبوطی اورجرأت واستقلال کے ساتھ کام کریں،آپ میدان عمل میں جتنے مضبوط ہوں گے امارت شرعیہ کا کاز اتنا ہی مضبوطی سے آگے بڑھے گا۔کلمہ طیبہ وکلمہ شہادت کے معنی اوران پر عمل کی راہیں“ کے عنوان پرنائب ناظم امارت شرعیہ جناب مولانامفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے ٹریننگ پیش کیں،اوراس موضوع سے متعلق مبلغین حضرات کے سامنے درج ذیل باتیں آئیں۔کلمہ طیبہ وکلمہ شہادت کے صحیح تلفط،معنیٰ کے فہم،اس کی تحلیل اور تذکرکی استعداد سے آراستہ ہونا، عملی تطبییق کے طورپر اس بات کا یقین پیدا کرناکہ مالک حقیقی اور قادر مطلق صرف ایک اللہ کی ذات ہے، وہی عبادت وبندگی کا مستحق ہے،ہرعمل صرف اسی کی رضامندی کے لئے کرنا اصل توحید اور حقیقی ایمان ہے، البتہ عمل کے اندر بحیثیت رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو اسوہ اور نمونہ بناناعمل کی صحت و مقبولیت کے لئے لازم وضروری ہے۔، اس کا مقصد مسلمانوں میں کلمہ کے معنی اوراس کا فہم اوراس کے تقاضوں کو پوراکرنے کی اہلیت پیدا کرناتھا۔
اسی طرح مفتی صاحب نے اپنی دوسری نشست میں ‘‘تنظیم،مقاصد،اہداف اور ترجیحات’’ کے عنوان پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ تنظیم کے عمل کو مستحکم بنایاجائے اورترجیحی اہداف ومقاصد کو بروئے کار لانے کی محنت کی جائے۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانامفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے مبلغین حضرات میں امارت شرعیہ کی فکراوراس کے منہج کو اتارنے کے لئے امارت شرعیہ کیاہے؟ اوراس سے وابستگی ضروری کیوں ہے،اس عنوان پر تفصیل سے اپنا مقالہ پیش کیا،اوراس کے مختلف شرعی جہتوں کو اجاگر کیا۔جناب مولانامفتی سعیدالرحمن قاسمی صاحب مفتی امارت شرعیہ نے اسلام میں زکوۃ کی اجتماعی نظام کی اہمیت اور نظام بیت المال امارت شرعیہ کی افادیت وجامعیت پر مفصل گفتگو فرمائی۔اوراس سلسلہ میں زکوۃ کے مختلف پہلوؤں پر سوال وجواب کا سیشن بھی منعقد ہوا۔ جناب مولانا عبدالباسط ندوی صاحب سکریٹری المعہدالعالی امارت شرعیہ نے ‘‘جامع ونافع تعلیم کی ضرورت واہمیت’’پر گفتگو فرمائی اور اس موضوع کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ بنیادی طورپر علم کی تقسیم علم نافع اور علم غیر نافع ہے،اسلام علم نافع کی تعلیم کے حصول پر زور دیتاہے،جامع اور نافع تعلیم سے مراد وہ سارے علوم ہیں جو دنیا وآخرت میں انسانوں کی فلاح وبہبود کے لئے کارآمدہیں۔ جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے اللہ کی تعریف اس کے اسماء وصفات کے عنوان پر اپنی ٹریننگ پیش کی،آپ نے شروع میں ایمانیات کے مبادی اوراصول بیان کئے، اللہ کی ذات وصفات پر جامع گفتگو کی، لفظ اللہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ اللہ پاک کا ذاتی نام ہے،
اس کے علاوہ سارے نام صفاتی ہیں،آپ نے مزید کہاکہ آج کے ارتداد والحاد اور پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات وصفات کا ہرایک مسلمان کو تفصیلی علم ہو،آپ مبلغین حضرات کو اس عنوان پر اس لئے تربیت دی جارہی ہے کہ آپ امارت شرعیہ جیسے دینی وشرعی تنظیم کے داعی اور مبلغ ہیں،آپ کے بیانا ت میں اللہ کی ذات وصفات کا تذکرہ شامل ہو، تاکہ امت کے کمزور ایمان کو طاقت وقوت ملے۔ جناب مولانا مفتی محمد وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ نے ‘‘نشہ،جہیز وارتداد جیسی سماجی خرابیوں کے نقصانات اور ان کے انسداد کی تدبیریں’’کے عنوان پر بلیغ انداز میں روشنی ڈالی،حضرات مبلغین کومسلم سماج سے ان برائیوں کے دور کرنے کے طریقہ کار پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ آج نوجوانوں کا بڑا طبقہ نشہ جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہے،مسلم بچیاں موبائل اور مخلوط نظام تعلیم اور گارجین کی لاپرواہی کی وجہ سے بڑے پیمانہ پر فتنہئ ارتداد کی شکار ہورہی ہیں،آپ حضرات کو بحیثیت مبلغین امارت شرعیہ اس بات کا پابندکرتی ہے کہ سماج سے ان برائیوں کے خاتمہ کے لئے اپنی دعوتی محنت تیز سے تیز کردیں۔اسی طرح تربیتی اجتماع کی مختلف نشستوں میں جناب عبدالوہاب صاحب سابق ای ڈی ایم نے ‘‘ایف آئی آر کا قانونی پہلو،اہم دفعات اورآن لائن وآ ف لائن ایف آئی آر کا طریقہ’’ اسی طرح ‘‘اقلیتوں سے متعلق قوانین اور اقلیتوں کے سلسلہ میں سرکاری اسکیموں کی معلومات’’اور ‘‘ہبہ،وقف، ہدیہ،رجسٹری اوران سے متعلق قوانین اور مدارس ومساجد واوقاف کے تحفظ کی تدبیریں’’وغیرہ اہم اوربنیادی معلومات فراہم کیں۔ جناب فرحان صاحب مسوڑھی پٹنہ نے حالات کے پیش نظر حضرات مبلغین کو ‘‘آدھارکارڈ،پین کارڈ،ودیگر ضروری کاغذات’’بنانے اوراصلاح کرنے سے متعلق جانکاری دی اور موصوف نے اس کا پریکٹیکل بھی پیش کیا۔جناب مولانا رضوان احمد ندوی صاحب نے ’’عصبیت، الحاداور ریا انسانی کردار کو خراب کرنے والے گناہ‘‘کے موضوع پر گفتگو کی۔اس تربیتی اجتماع کی خاص بات یہ رہی کہ جہاں اس میں ایک جانب دینی وفکری مضامین شامل تھے دوسری جانب سماج سے متعلق جڑے مسائل کی معلومات بھی مبلغین کو دی گئیں،اس کے پیش نظر جناب مولانا عادل فریدی قاسمی صاحب نے تربیتی اجتماع کی مختلف نشستوں میں ‘‘اسمارٹ فون کا استعمال مثلاً واٹس ایپ،ٹیلی گرام،منی ٹرانسفر وموبائل بینکنگ کی جانکاری،کمپیوٹر کا استعمال: ژوم میٹنگ،ای میل،گوگل شیٹس وگوگل ڈاکس کی جانکاری اور ریلوے سے متعلق آن لائن معلومات کی فراہمی کا طریقہ’’بتایا اور ہرایک موضوع سے متعلق عملی مشق کرایا انہوں نے اسمارٹ فون کے استعمال کے تعلق سے احتیاطی تدابیر بھی بتائیں خاص طور پر سائبر ٹھگی اورآن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ٹپس دیے۔
اس چھ روزہ تربیتی پروگرام کو مرتب و منظم کرنے اور اس کے کامیاب انعقاد میں جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ، مولانا احمد حسین قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ، مولانا شہنواز عالم مظاہری آفس انچارج شعبہ تبلیغ و تنظیم، مولانا عبد اللہ جاوید صاحب شعبہ تنظیم، مولانا عبد القدوس صاحب مظاہری شعبہ تنظیم نے بہت ہی محنت اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا۔ آخری دن مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب امیر شریعت بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کی نصیحت آمیز گفتگو ہوئی، جس میں حضرت امیر شریعت نے تمام مبلغین کو کام کرنے کے رہنما اصول بتائے، ساتھ ہی آپ نے انہیں نصیحت کی کہ علاقہ میں آپ ہی امارت شرعیہ کا چہرہ اور امارت شرعیہ کے ترجمان ہیں، لوگ آپ سے ہی امارت شرعیہ کا اندازہ لگائیں گے، اس لیے اپنے قول و عمل اوراخلاق و کردار سے امارت شرعیہ کی عملی ترجمانی کریں تاکہ جو بھی آپ سے ملے وہ اپنے ذہن و دماغ میں امارت شرعیہ کی ایک صحیح اور مثبت تصویر بنائے اور اس کے اندر امارت شرعیہ کے تئیں عقئیدت و محبت پیدا ہو۔آخر میں حضرت امیر شریعت کی دعا پراس چھ روزہ تربیت کا بحسن و خوبی اختتام ہوا۔












