نئی دہلی: ادب قوم کی روح ہے، جو مکالمے، ہم آہنگی اور قومی شعور کو سمت دیتا ہے۔ ادیبوں اور شاعروں کا فرض ہے کہ وہ عوام میں قوم پہلے کے جذبے کو ہمیشہ بیدار رکھیں۔ان خیالات کا اظہار راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رہنما اندریش کمار نے آئڈیا کمیونیکیشنز کی سلور جوبلی تقریب اور جشنِ چراغاں کے دسویں ایڈیشن کے موقع پر بطورِ مہمانِ خصوصی اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی کئی تہذیبیں آئیں اور مٹ گئیں، مگر بھارت ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ آئڈیا کمیونیکیشنز دیگر تہواروں کی طرح رَکشا بندھن کے تہوار کو بھی ایک ادبی روایت کے طور پر منائے، تاکہ رشتوں کی معنویت کو سماجی و فکری سطح پر فروغ دیا جا سکے۔تقریب کی صدارت سینئر رکنِ پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کی۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے کہا کہ جشنِ چراغاں محض ایک مشاعرہ نہیں بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا حسین سنگم ہے۔انھوں نے کہا کہ مشترکہ وراثت اور قومی یکجہتی کو مستحکم کرنے میں ایسے پروگرام اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور آئڈیا کمیونیکیشنز گزشتہ پچیس برسوں سے یہ فریضہ بخوبی انجام دے رہا ہے۔
آئڈیئاک کے نائب صدر ڈاکٹر ایس فاروق نے کہا کہ جشنِ چراغاں صرف تہواروں کا جشن نہیں، بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے والا ایک ہمہ گیر پلیٹ فارم ہے۔ادارے کے ڈائریکٹر آصف اعظمی نے گزشتہ پچیس برسوں کی خدمات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہمیشہ بھارتی ادب، ثقافت اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سرگرم رہا ہے۔راجدھانی کالج کے چیئرمین پروفیسر امیت کمار سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی ثقافتی اور لسانی وراثت کو نئی نسل تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے، اسی لیے غیر نصابی سرگرمیوں میں اس نوعیت کے پروگراموں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔کالج کے پرنسپل پروفیسر درشن پانڈے نے استقبالیہ خطاب پیش کیا، جب کہ آئڈیئاک کے صدر گجا نند پرساد شرما نے اظہارِ تشکر کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر گورویندر سنگھ بانگا نے انجام دیے۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی سینئر شاعر پرتاپ سومنشی اور عقیل بخش شریک ہوئے۔دہلی اردو اکادمی، دہلی ہندی اکادمی اور کاویانجلی کے اشتراک سے منعقد اس ادبی محفل میں اردو، ہندی، بھوجپوری اور پنجابی کے ممتاز شعراء و ادباء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔نمایاں شعراء میں رما پانڈے، آلوک اَوِرل، کملیش بھٹ کمل، وی کے شیکھر، پروفیسر جسویر تیاگی، کرنل سنجے چترویدی، ایم آر قاسمی، قاضی نظم الاسلام، سورندر شجر، دلدار دہلوی، ریشما زیدی، سعدیہ علیم، احمد علوی، صہیب فاروقی، انجم جعفری، سلمان فیصل، پرکھر مالویہ کانہا، وکاس مشرا اور آصف بلال شامل تھے۔












