دودنوں کے درمیان پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں چوک کیخلاف ہنگامہ کرنے والے 127 ارکان پر کی گئی کارروائی
نئی دہلی: پارلیمان کی سیکورٹی کو دو نوجوانوں کے ذریعہ خطرے میں ڈاالنے کا معاملہ اپوزیشن کے ارکان کیلئے معطلی کا سبب ہی نہیں بن رہاہے،بلکہ اس پورے معاملہ میں حکمراں جماعت اور خود وزیر اعظم کے ذریعہ حزب اختلاف کو ہی نشانہ بنایاجا رہاہے، جو سیکورٹی میں نقب زنی کے ایشو پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سرکار کو گھیرنے میں لگے ہیں۔ اس درمیان خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ایشو پر محاذ آرائی منگل کو جاری رہی اور اس دوران مزید 49 ارکان پارلیمنٹ کو لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق معطل ہونے والوں میں فاروق عبداللہ، ششی تھرور، منیش تیواری شامل ہیں۔ذہن نشیں رہے کہ پیر کو ریکارڈ 78 ارکان پارلیمنٹ کو معطل کیا گیا۔ گزشتہ دو دنوں میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے کل 127 ارکان پارلیمنٹ کو معطل کیا گیا ہے۔

اس ایشو پراپوزیشن مودی حکومت پر آمریت کا الزام لگا رہی ہے۔ یہ معطلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کچھ اہم بل ایوان میں پیش ہونے والے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے لوک سبھا میں کہا ہے کہ ایوان کے اندر پلے کارڈ نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ (اپوزیشن) حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد مایوسی سے ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس لیے ہم اراکین اسمبلی کو معطل کرنے کی تجویز لے کر آرہے ہیں۔
یاد رہے کہ 13 دسمبر کو چار لوگوں نے پارلیمنٹ کے احاطے کے اندر اورباہر مظاہرہ کیا تھا اور رنگین دھواں چھوڑاتھا۔وزیٹر گیلری سے ایوان میں نوجوانوں کے کودنے کے معاملہ میں اپوزیشن کے ارکان ایوان میں وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں بڑی کوتاہی کا الزام لگاتے ہوئے جواب مانگ ر ہے ہیں،جنہیں پارلیمانی آداب کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت قسطوں میں معطل کیا جارہاہے۔
اپوزیشن کے ارکان کے سوالات کا جواب دینے کی بجائے الزام تراشیوں اور معطلیوں کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ دراز ہورہاہے،بلکہ خود وزیر اعظم بھی اس معاملہ میں اپوزیشن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں دو نوجوانوں کے کودنے کے واقعہ پر اپوزیشن کے بیانات کو اس واقعہ کی مانند خطرناک اور جمہوریت مخالف قرار دیا ۔ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی آخری میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے میٹنگ میں تمام بی جے پی ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں پیش آنے والے واقعے پر کہا کہ جو بھی جمہوریت میں یقین رکھتا ہے اسے اس کی شدید مذمت کرنی چاہیے۔ لیکن حالیہ انتخابات کے نتائج سے مایوس کچھ جماعتیں پارلیمنٹ کے واقعے کی حمایت میں بول رہی ہیں۔ یہ اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ یہ واقعہ خطرناک تھا۔












