پیر, فروری 2, 2026
  • Login
Hindustan Express
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper
No Result
View All Result
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper
No Result
View All Result
Hindustan Express
Epaper
No Result
View All Result
Home دیار وطن دیارِ ملت

ایسا قانون جو شریعت کے خلاف ہو ہمیں منظور نہیں: مولانا ارشدمدنی

شاہدالاسلام by شاہدالاسلام
فروری 6, 2024
in دیارِ ملت
0
ہمارااعتراض سرکارکی نیت پر ہے ، سرورے پر نہیں:مولاناا رشدمدنی
0
SHARES
15
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی(یو این آئی) اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈکو نافذ کرنے کے ریاستی سرکارکے فیصلہ پر صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے اپنے شدیدردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا قانون منظور نہیں جو شریعت کے خلاف ہو۔آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مسلمان ہر چیزسے سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن ا پنی شریعت اوردھرم سے ہرگز ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں آج یکساں سول کوڈکاجوبل منظورہواہے اس میں درج فہرست قبائل کو ہندوستان کے آئین کی دفعہ 366کے باب 25کی ذیلی دفعہ 342کے تحت نئے قانون سے مستثنیٰ کردیاگیا ہے اوریہ دلیل دی گئی ہے کہ آئین کی دفعہ21کے تحت ان کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے۔
مولانا مدنی نے سوال کیا کہ اگر آئین کی ایک دفعہ کے تحت درج فہرست قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا جاسکتاہے توآئین کی دفعہ 25،26 کے تحت ہمیں مذہبی آزادی کیوں نہیں دی جاسکتی ہے، جن میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، اس طرح دیکھاجائے تویکساں سول کوڈ بنیادی حقوق کی نفی کرتاہے، اگر یہ یکساں سول کوڈہے توپھر شہریوں کے درمیان یہ امتیاز کیوں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری لیگل ٹیم اس بل کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی اس کے بعد قانونی چارہ جوئی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سچ تویہ ہے کہ کسی بھی مذہب کاماننے والااپنے مذہبی امورمیں کسی طرح کی بے جامداخلت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے تکیثری ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے اپنے اپنے اعتقادات اورمذہبی ریت اوررواج پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل پیرا ہیں وہاں آج یکساں سول کوڈکا نفاذآئین میں شہریوں کودیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے، سوال مسلمانوں کے پرسنل لاء کا نہیں بلکہ ملک کے سیکولرآئین کو اپنی حالت میں باقی رکھنے کاہے، کیونکہ ہندوستان ایک سیکولرملک ہے اوردستورمیں سیکولرازم کے معنی یہ ہیں کہ ملک کااپنا کوئی مذہب نہیں ہے، اس لئے یکساں سول کوڈمسلمانوں کے لئے ناقابل قبول ہےاورملک کی یکجہتی اورسالمیت کے لئے بھی نقصاندہ ہے، یکساں سول کوڈکے نفاذکے لئے، دفعہ 44 کو ثبوت کے طور پر پیش کیاجاتا ہے اوریہ پروپیگنڈہ کیا جاتاہے کہ یکساں سول کوڈکی بات توآئین میں کہی گئی ہے جبکہ دفعہ 44رہنمااصول میں نہیں ہے، بلکہ ایک مشورہ ہے، لیکن آئین کی ہی دفعہ 25، 26 اور 29 کا کوئی ذکر نہیں ہوتا جن میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، اس طرح دیکھا جائے تو یکساں سول کوڈ بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے، اس کے باوجود ہماری حکومت کہتی ہے کہ ایک ملک ایک قانون ہوگا اور یہ کہ ایک گھر میں دو قانون نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ عجیب وغریب بات ہے، ہمارے یہاں کی IPC،CRPC کی دفعات بھی پورے ملک میں یکساں نہیں ہیں، ریاستوں میں اس کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے، ملک میں گؤکشی کا قانون بھی ایک نہیں ہے جو قانون ہے وہ پانچ ریاستوں میں نافذ نہیں ہے ملک میں ریزرویشن کے تعلق سے سپریم کورٹ نے اس کی حد 50 فیصد مقرر کی ہے لیکن مختلف صوبوں میں 50 فیصد سے زیادہ ریز رویشن دیا گیا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ جب پورے ملک میں سول لاء ایک نہیں ہے تو پھر ملک بھر میں ایک فیملی لاء لاگو کرنے پر زور کیوں؟ ہمارا ملک کثیر تہذیبی اور کثیر مذہبی ملک ہے، یہی اس کی خصوصیت بھی ہے، اس لئے یہاں ایک قانون نہیں چل سکتا، جو لوگ دفعہ 44 کی آنکھ بند کر کے وکالت کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی دفعہ کے تحت یہ بات بھی کہی گئی اوریہ بھی مشورہ دیا ہے کہ پورے ملک میں شراب پر پابندی لگائی جائے، امیر غریب کے درمیان کی خلیج کو ختم کیا جائے،سرکار یہ کام کیوں نہیں کرتی؟ کیا یہ ضروری نہیں؟ سوال یہ ہے کہ جن باتوں پر کسی کو اختلاف نہیں اور جو سب کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے سرکار اسے کرنے سے گریزکیوں کرتی ہے؟ دوسری طرف جو چیز یں اختلافی ہیں اسے ایشو بنا کر آئین کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے جو فیملی لاء ہیں وہ انسانوں کا بنایا قانون نہیں ہے، وہ قرآن مجید وحدیث سے ماخوذ ہیں، اس پر فقہی مباحث تو ہو سکتے ہیں، لیکن بنیادی باتوں پر ہمارے یہاں کوئی اختلاف نہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ یہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتاہے کہ یکساں سول کوڈکا نفاذ شہریوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں نت نئے جذباتی اورمذہبی مسائل کھڑے کرکے ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مسلسل خوف اورانتشارمیں مبتلارکھنا چاہتی ہے لیکن مسلمانوں کو کسی بھی طرح کے خوف اورانتشارمیں مبتلانہیں ہوناچاہئے، ملک میں جب تک انصاف پسند لوگ باقی ہیں ان کو ساتھ لیکر جمعیۃعلماء ہند ان طاقتوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی، جو ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لئے نہ صرف ایک بڑاخطرہ ہے بلکہ سماج کو تعصب کی بنیادپر تقسیم کرنے کے درپے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس ملک کے خمیرمیں ہزاروں برس سے نفرت نہیں محبت شامل ہے کچھ عرصہ کے لئے نفرت کو کامیاب ضرورکہا جاسکتاہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ آخری اورحتمی فتح محبت کی ہونی ہے۔

Tags: اتراکھنڈصدرجمعیۃعلماء ہندمولانا ارشدمدنییکساں سول کوڈ
ShareTweetSend
Previous Post

ہماچل پردیش میں غیر معمولی برف باری

Next Post

100 دن کے کام کی اسکیم میں بدعنوانی کے خلاف ای ڈی کا ایکشن

شاہدالاسلام

شاہدالاسلام

Indian journalist . As a News Editor of Hindustan Express currently working in New Delhi

Next Post
لالو یادو کے قریبی امیت کاتیال کو ای ڈی نے کیا گرفتار

100 دن کے کام کی اسکیم میں بدعنوانی کے خلاف ای ڈی کا ایکشن

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

خبریں

امریکہ میں خاندانی جھگڑا،ہند نژاد خاتون سمیت چار  ہلاک

امریکہ میں خاندانی جھگڑا،ہند نژاد خاتون سمیت چار ہلاک

جنوری 24, 2026
تعلیمی اداروں کو ڈریس طے کرنے کا اختیارہے:عدالت عظمیٰ

اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر معاملہ میں مرکز کی اپیل مسترد

جنوری 19, 2026
ہندوستان اور یو اے ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہندوستان اور یو اے ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

جنوری 19, 2026
اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا قومی سطح کا پروگرام 2 اکتوبر سے شروع ہوگا

بہار میں صنعت کاروں کو اقتصادی پیکیج فراہمی: نتیش کمار

جنوری 19, 2026
مرکزی الیکشن کمیشن کی ٹیم کا آئندہ ماہ دورہ تلنگانہ

ترنمول کانگریس کو الیکشن کمیشن کا سخت انتباہ

دسمبر 31, 2025
لالو یادو کے قریبی امیت کاتیال کو ای ڈی نے کیا گرفتار

رائے پورسمیت دس مقامات پر ای ڈی کا چھاپہ

دسمبر 31, 2025
سنجے راوت کی ضمانت منظور

سنجے راوت کو ملی بم سے اڑانے کی تحریری دھمکی

دسمبر 31, 2025
سی پی آئی کا صد سالہ یومِ تاسیس

سی پی آئی کا صد سالہ یومِ تاسیس

دسمبر 26, 2025
500 کروڑ سے زائد کی جی ایس ٹی چوری کاانکشاف

500 کروڑ سے زائد کی جی ایس ٹی چوری کاانکشاف

دسمبر 26, 2025
انڈیگو بحران پرتحقیقاتی کمیٹی  کی رپورٹ حکومت کے سپرد

انڈیگو بحران پرتحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ حکومت کے سپرد

دسمبر 26, 2025

Categories

  • Featured
  • آئینہ شہر
  • آج کی خبریں
  • أخبار
  • اخبارجہاں
  • افکارِ جہاں
  • الیکشن
  • بزم شمال
  • بزنس
  • بہار نامہ
  • پارلیمانی خبریں
  • جرائم
  • جہانِ اردو
  • جہانِ طب
  • حادثہ
  • حقوق انسانی
  • خاص خبریں
  • خدمتِ خلق
  • خصوصی پیشکش
  • دلچسپ
  • دہلی نامہ
  • دیارِ ملت
  • دیار وطن
  • دیارِادب
  • سائنس و تحقیق
  • سیاست
  • عالم اسلام
  • عدلیہ
  • فلسطین- اسرائیل جنگ
  • فن فنکار
  • قدرت کاقہر
  • قوس قزح
  • کانفرنس
  • کشمیرنامہ
  • کھلاخط
  • کھیل ایکسپریس
  • متحرك
  • مذہبی خبریں
  • موسيقى
  • میرا کالم
  • ہمسایہ

Tags

احتجاج اسرائیل اقوام متحدہ الیکشن الیکشن کمیشن امریکہ انتخابات اپوزیشن ایران اے ایم یو بنگلہ دیش بھارتیہ جنتا پارٹی بہار بی جے پی تلنگانہ جامعہ ملیہ اسلامیہ جموں وکشمیر حماس حکومت خواتین دہلی راجستھان راہل راہل گاندھی سپریم کورٹ عام آدمی پارٹی غزہ فلسطین لوک سبھا لوک سبھا انتخابات مسلمان ممبئی مودی مہاراشٹر نیشنل کانفرنس وزیر اعظم وزیر اعلیٰ پارلیمنٹ پاکستان کانگریس کرناٹک کشمیر کیجریوال ہماچل پردیش ہندوستان
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions

Web Editor: Shahidul Islam
.Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved

No Result
View All Result
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper

Web Editor: Shahidul Islam
.Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In