دوحہ(ایجنسیاں): قطر میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ سے متعلق شدت پسند تنظیم ‘القاعدہ’ کی علاقائی شاخ نے مسلمانوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ اس ایونٹ سے دور رہیں۔ وائس آف امریکہ کی خبر کے مطابق القاعدہ کی جانب سے جاری کیے گیے بیان میں کسی پر تشدد کارروائی کا انتباہ شامل نہیں ہے البتہ اس نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بین الاقوامی مقابلوں کے ایونٹ سے دور رہیں۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق القاعدہ کی سرگرمیوں اور بیانات پر نظر رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ‘سائٹ انٹیلی جنس گروپ’ کی طرف سے ہفتے کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یمن میں قائم القاعدہ کی شاخ نے ورلڈ کپ کے انعقاد پر قطر کو شدید تنقید کیا نشانہ بنایا اور اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ، بقول اس کے، بد عنوان، بد اخلاق افراد، ہم جنس پرست اور ملحد لوگوں کو ایک عرب ملک میں لایا گیا ہے۔
القاعدہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ قطر میں منعقد ورلڈ کپ نے مسلم ممالک پر قبضے اور ان میں ظلم و ستم سے توجہ ہٹانے کا کام کیا ہے۔
ذہن نشیں رہے کہ فٹ بال کا عالمی میلہ قطر میں آج ہی شروع ہو ا ہے جس میں 32 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جب کہ اس کے میچز لگ بھگ ایک ماہ تک جاری رہیں گے۔
خیال رہے کہ خلیجی ملک قطر کی آبادی صرف 30 سے 35 لاکھ کے درمیان ہے جس میں بڑی تعداد میں غیر ملکی بھی شامل ہیں جو وہاں روزگار کی غرض سے آباد ہیں۔
قطر نے ورلڈ کپ کی سیکیورٹی کے لیے کئی ممالک سے معاہدے کیے ہیں۔ پاکستان کی فوج کے دستے بھی فٹ بال ورلڈ کپ میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے کے لیے قطر میں موجود ہیں۔ دوسری طرف ورلڈ کپ کے منتظمین نے قطر کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر رد عمل میں کہا ہے کہ ایونٹ میں شرکت کرنے والوں کے جنسی رجحان یا پس منظر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ سب لوگوں کو ایونٹ کے دوران خوش آمدید کہیں گے۔
واضح رہے کہ قطر پر ہم جنس پرستوں کے حقوق اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے تنقید کی گئی تھی۔
قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ کے حوالے سے کام کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ اس نے ورلڈ کپ کے دوران سیکیورٹی کے لیے 50 ہزار سے زائد افراد کو تربیت دی ہے جب کہ غیر ملکی افواج قطری کمانڈ کے تحت خدمات سر انجام دیں گی۔فٹ بال ورلڈ کپ کے 20 نومبر سے شروع ہونے والے مقابلوں کا فائنل 18 دسمبر کو کھیلا جائے گا۔