حیدرآباد : ( ہندوستان ایکسپریس نیوز بیورو ) : ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی عامر شکیل نے شان رسالتؐ میں گستاخی کرنے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے زبان کاٹ دینے کی دھمکی دے ڈالی ۔ سیاست نیوزکی خبرکے مطابق انہوں نے سیاسی فائدے کے لیے”گجراتی غلاموں "کے اشارے پر کام کرتے ہوئے تلنگانہ میں گودھرا جیسی صورتحال پیدا کرنے کی سازش کرنے کا بی جے پی کے قائدین پر الزام عائد کیا ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بودھن کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی عامر شکیل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے شان رسالتؐ میں گستاخی کرنا بی جے پی کی پالیسی بن گئی ہے ۔ نپور شرما کا مسئلہ ابھی ختم ہی نہیں ہوا تھا کہ راجہ سنگھ نے گستاخی کی ہے ۔ اگر بی جے پی قیادت کی جانب سے نپور شرما کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی تو راجہ سنگھ دوبارہ اس طرح کی حرکت کرنے کی جرات نہیں کرتے لیکن بی جے پی ہر مسئلہ کو سیاست کی عینک سے دیکھتے ہوئے ملک کو تشدد کی آگ میں جھونک رہی ہے ۔ انہوں نے راجہ سنگھ کی غلطی کو ناقابل معافی قرار دیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
عامر شکیل نے کہا کہ حالیہ دنوں میں گجراتی غلاموں بالخصوص تڑی پار کے تلنگانہ میں دورے زیادہ ہوگئے، وہ جب بھی یہاں آتے ہیں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے والی تقاریر کرتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے بی جے پی کے قائدین تلنگانہ میں گودھرا جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ تلنگانہ میں لا اینڈآرڈر پوری طرح کنٹرول میں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ تلنگانہ حکومت بی جے پی کو اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہونے کبھی نہیں دے گی ۔ بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے گی ۔ تلنگانہ میں دئیے جانے والے جواب کی گونج بی جے پی کو دہلی تک سنائی دے گی ۔ چیف منسٹر کے سی آر فرقہ پرستوں کے سامنے آہنی دیوار بنے ہوئے ہیں اور بی جے پی کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں ۔ جس سے بی جے پی تحقیقات ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے دہلی شراب گھپلامعاملہ میں وزیراعلیٰ کے سی آر کی دختر کے کویتا کو پھنسانے کی کوشش کررہی ہے ۔ کے کویتا نے نے بھی اس کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے ۔ دہلی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ۔ان کااآگے کہنا تھاکہ ٹی آر ایس ایسے گیڈر دھمکیوں سے ڈرنے گھبرانے والی نہیں ہے بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے گی ۔












