طالبان کے کٹر حامی اور نامور مذہبی اسکالر مولوی مجیب انصاری بھی اپنے محافظوں سمیت مارے گئے
کابل(ایجنسیاں): افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں جمہ کے روز ایک مسجد میں زور دار دھماکے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے جن میں طالبان کے قریب سمجھے جانے والے ایک ممتاز عالم، طالبان حکام شامل ہیں۔ دھماکے میں کم از کم 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبے ہرات کے شہر گزرگاہ کی مسجد کے دروازے پر اس وقت زوردار دھماکا ہوا جب معروف مذہبی اسکالر محیب الرحمان انصاری اپنے محافظوں کے ہمراہ وہاں پہنچے تھے۔ مسجد میں نماز جمعہ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور نمازیوں کی بڑھی تعداد موجود تھی۔ ھماکے کے بعد افراتفری مچ گئی اور طالبان اہلکاروں نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرلیا۔ ریسکیو ادارے نے دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ہرات کے گورنر مولوی حمید اللہ متوکل نے بم دھماکے میں طالبان کے حامی مجیب الرحمان انصاری کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے محافظ اور نمازی بھی شہید ہوگئے تاہم انھوں نے تعداد نہیں بتائی۔جائے حادثہ پر موجود عینی شاہدین نے الجزیرہ کو بتایا کہ شہید ہونے والوں کی تعداد 15 ہے اور متعدد زخمی ہیں۔ زخمیوں میں سے 4 کی حالت نازک ہونے کے سبب شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے طالبان کی گاڑیوں، مساجد اور اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری داعش خراسان قبول کرتی آئی ہے۔
دریں اثناء خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق دھماکے کے بعد شہر کی مسجد گزرگاہ کا صحن لاشوں سےبھر گیا اور ہر طرف خون بکھر گیا۔
جائے وقوعہ پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد لوگ دکھ اور دہشت میں بآواز بلند’ اللہ اکبر ‘ کا ورد کر رہے ہیں۔ ہرات شہر میں دھماکا جمعہ کی نماز کے دوران ہوا، جب مساجد نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں ممتاز عالم مجیب الرحمٰن انصاری بھی شامل تھے جو گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کی مغربی حمایت یافتہ حکومتوں پر تنقید کے لیے پورے افغانستان میں جانے جاتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں افغان طالبان کے قریب سمجھا جاتا ہے جو ایک سال قبل غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔طالبان کے چیف ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکے میں انصاری کی موت تصدیق کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دھماکے سے قبل مجیب الرحمٰن انصاری نے ہرات شہر کے دورے پر آئے طالبان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر سے شہر کے ایک دوسرے علاقے میں ملاقات کر رہے تھے۔
ملا برادر کے ایک معاون نے مجیب انصاری ی ہلاکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ وہ عبدالغنی برادر سے ملاقات کے بعد ظہر کی نماز پڑھنے کے لیے میٹنگ سے سیدھا مسجد پہنچے تھے۔
اے پی نے ہرات ایمبولینس سینٹر کے ایک اہلکار محمد داؤد محمدی نے کے حوالے سے خبر میں کہا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے 18 افراد کی نعشوں اور 21 زخمیوں کو ہرات کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
آخری اطلاعات تک جمعہ کو ہونے والے دھماکے کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔












