نئی دہلی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز مرکز کی اس اپیل کو خارج کر دیا جس میں دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس نے ڈیفسِس سولیوشنز پر حکومتی کاروباری لین دین کی معطلی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) نے بتایا کہ کمپنی کے خلاف کوئی الزام ثابت کرنے والا مواد نہیں ملا۔ڈیفسِس سولیوشنز کو اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر کیس سے منسلک الزامات کی بنیاد پر حکومت کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے 28 اگست کو معطلی ختم کر دی تھی، جس کے بعد مرکز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔16 دسمبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا تھا کہ آیا کمپنی کے خلاف کوئی نیا مواد اکٹھا کیا گیا ہے۔ پیر کو ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس دیپنکر دتہ اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ سی بی آئی کو اب تک ڈیفسِس کے خلاف کوئی منفی ثبوت نہیں ملا۔
سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب اگستا ویسٹ لینڈ، جو اس کیس میں اصل ملزم ہے، کو پہلے ہی ریلیف مل چکا ہے تو پھر ڈیفسِس کے خلاف کارروائی کی بنیاد کیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت کا موقف ہائی کورٹ میں یہ تھا کہ اگستا ویسٹ لینڈ ہی اصل مجرم ہے اور مبینہ طور پر فنڈز اس سے ڈیفسِس کے ذریعے منتقل ہوئے۔ڈیفسِس سولیوشنز کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ مکُل روہتگی نے کہا کہ کمپنی کا اگستا ویسٹ لینڈ کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کیس درج ہونے کے 12 سال گزر جانے کے باوجود تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔
سی بی آئی کی جانب سے دیے گئے بیان کو ریکارڈ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ جب کمپنی کے خلاف کوئی منفی مواد موجود نہیں ہے تو ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ چنانچہ مرکز کی خصوصی اجازت کی درخواست کو خارج کر دیا گیا۔عدالت نے البتہ وضاحت کی کہ اگر مستقبل میں تحقیقاتی ایجنسی کو کوئی نیا مواد ملتا ہے تو وہ قانون کے مطابق کمپنی کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوگی۔ اپیل کے خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ڈیفسِس سولیوشنز وزارتِ دفاع کے متعلقہ حکام سے سابقہ معطلی کے حکم کے سلسلے میں مناسب ریلیف کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔












