مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ریجنل ڈائرکٹرکی رحلت پر سرکردہ شخصیات کااظہارِ غم
نئی دہلی: شاعر،ادیب،صحافی اورمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ریجنل ڈائرکٹر (کولکاتا) ڈاکٹرامام اعظم حرکت قلب بند ہونے کے سبب رحلت فرما گئے ۔ موصوف کا اصل نام سید اعجاز حسین تھا مگر ادبی و صحافتی حلقوں میں انہیں ڈاکٹرامام اعظم کے طور پر شناخت ملی،جو ان کا قلمی نام تھا۔ موصوف کی ادبی کاوشوں کو علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ ستے دیکھا گیا۔ امام اعظم ان قلمکاروں میں سے ایک تھے، جنہوں نے زود نویسی کو اپنا شعار بنایا۔ڈاکٹرامام اعظم 20 جولائی 1960ء کو محلہ گنگوارہ دربھنگہ بہار میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد ظفر المنان ظفر فاروقی ہے ۔ موصوف مشہور ادبی جریدہ ’’تمثیلِ نو‘‘ کے مدیر اعزازی بھی تھے۔ ڈاکٹر ایم صلاح الدین ‘ دربھنگہ نے حال ہی میں ان کے فن اور شخصیت پرایک کتاب ’’ڈاکٹر امام اعظم : اجمالی جائزہ ‘‘ تصنیف کی ‘جس میں ڈاکٹر امام اعظم کے آباو اجداد کے تفصیلی ذکر کے ساتھ ساتھ ان کی حیات ، مشاہیر علم و ادب سے ملاقات اور ان کے تاثرات نیز ان ڈاکٹر امام اعظم کے کلام کا انتخاب بھی شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر خالد حسین خان کی کتاب”جہان ادب کے سیاح: ڈاکٹر امام اعظم” بھی منظر عام پر آچکی ہے،جس میں موصوف کی شخصیت اور فن کااحاطہ کیا گیا ہے۔

موصوف 4؍جولائی 2005ء تا 15؍ مارچ 2012ء مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ریجنل سینٹر دربھنگہ کے بانی ریجنل ڈائریکٹر رہے۔ بعد ازاں26؍ مارچ تا 2؍ اپریل 2012ء امام اعظم پٹنہ کے ریجنل ڈائریکٹر رہے اور پھر، 4؍ اپریل 2012ء کو انہیں کولکاتا کا ریجنل ڈائریکٹر بنایا گیا،جہاں تا دم مرگ وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے۔
مرحوم کی تصنیفات کی تفصیل کچھ یوں ہے:
- (1)نصف ملاقات۔ ( مرحوم مشاہیرِ ادب کے خطوط)۔ ترتیب -1994ء
- (2)قربتوں کی دھوپ۔ ( شعری مجموعہ )-1995
- (3)مظہر امام کی تخلیقات کا تنقیدی مطالعہ (تنقید و تحقیق)-1997
- (4)نئے علاقے میں (ہندی سے اردو ترجمہ)۔ ساہتیہ اکیڈمی-2001
- (5)اقبال انصاری : فکشن کا سنگِ میل (ترتیب)-2003ء
- (6)مولانا عبد العلیم آسی تعارف اور کلام (ترتیب)-2003ء
- (7)گیسوئے تنقید (ادبی مضامین)-2008ء
- (8)درپن ( اردو یونیورسٹی کا تعارفی کتابچہ) 2008ء
- (8)عہد اسلامیہ میں دربھنگہ اور دوسرے مضامین (تاریخ)ترتیب-2009ء
- (9)عبد الغفور شہباز(ہندوستانی ادب کے معمار)مونو گراف-2011ء
- (10)گیسوئے تحری (ادبی مضامین)-2011ء
- (11)ہندستانی فلمیں اور اردو (ادبی جائزے) ترتیب-2012ء
- (12)تجدیدِ حیات-1990ء
- (13)نیا سفر نخل نرگس 2000ء
- (14)حنازارِ شوق2000ء
- (15)رنگِ گلہائے چمن 2007ء
- (16)تہنیتی نظموں کے گلدستے۔ (ترتیب )
- ( 17)فاطمی کمیٹی رپور (تجزیاتی مطالعہ)-ترتیب
- (18)اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیبیں(کثرت میں وحدت کا اظہار)
- (19)نیلم کی آواز(شعری مجموعہ)
- (20)پہلی جنگِ آزادی میں اردو زبان کا کردار (ترتیب)
معروف نقاد حقانی القاسمی نے لکھا ہے کہ "بھائی امام اعظم سے آخری ملاقات 8 اکتوبر 2023کو دلی میں ہوئی تھی وہ مظہر امام مرحوم کے تعلق سے منعقدہ ایک پروگرام میں تشریف لائے تھے وہاں میرے لیے انہیں ایک تحفہ دیا گیا تھا جو وہ بذات خود میرے حوالے کرنا چاہتے تھے میں نے بارہا کہا کہ تحفہ مجھے مل جاءے گا مگر وہ مانے نہیں اور عجلت و مصروفیت کے باوجود شاہین باغ آہی گئے چند لمحوں کی ملاقات رہی چائے سے بھی انہوں نے معذرت کر لی مگر انہوں نے یہ کہتے ہوئے تصویر کھینچوائی کہ پتہ نہیں اب دلی آنا اور آپ لوگوں سے ملنا نصیب ہو یا نہ ہو۔آج محمود کریمی صاحب نے بھائی امام اعظم کے انتقال کی خبر دی تو دل دھک سے رہ گیا یقین ہی نہیں آیا”۔امام بھائی بہت مخلص اور ملنسار تھے میرا نہ صرف بہت خیال رکھتے تھے بلکہ میرے تعلق سے فکر مند بھی رہا کرتے تھے "۔

حقانی صاحب نے لکھا ہے کہ "اپنی ہر کتاب ترجیحی طور پر مجھے بھجواتے تھے انہیں یہ شکایت تھی کہ میں نے ان کی کتابوں کو نظر انداز کر دیا ہے ان کا یہ شکوہ بجا تھا میں نے ازالہ شکایت کا وعدہ کر لیا تھا مگر وعدہ وفا کرنے سے پہلے ہی یہ اندوہناک خبر آگءی اللہ بھاءی امام اعظم کی مغفرت فرماءے اور ان کی قبر کو نور سے بھر دے آمین پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے”۔ابرار مجیب نے ان کی رحلت پر اظہار تاسف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "امام اعظم کی اچانک رحلت سے شاکڈ ہوں۔ وہ میرے شہر دربھنگہ کے تھے اور ان سے قریبی تعلقات تھے۔ اللہ مغفرت فرمائے، آمین”۔













بہت افسوسناک خبر ہے۔ کل شام بھی انھوں نے واٹس ایپ اسٹیٹس اپڈیٹ کیا تھا۔ اچانک کیسے ایسا ہوگیا۔ یقین ہی نہیں ہوتا۔ بہت فعّال شخص تھے۔ برسوں ان سے ملنا جلنا رہا۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا کرے