چنئی:تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کے صدر جوزف وجے نے اتوار کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ اسی کے ساتھ ریاست میں تقریباً 6 دہائیوں سے جاری 2 بڑی دراوڑی جماعتوں، ڈی ایم کے اور ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کے باری باری اقتدار میں آنے کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے وجے کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ واضح رہے کہ ہفتہ کے روز 234 ارکان والی اسمبلی میں 120 منتخب اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہونے کے بعد وجے کو حکومت سازی کی دعوت دی گئی تھی۔

وجے نے صبح 10 بجے کے بعد چنئی کے نہرو اسٹیڈیم میں حلف اٹھایا۔ ان کے ساتھ ٹی وی کے کے کچھ سینئر رہنماؤں سمیت 9 دیگر اراکین اسمبلی نے بھی بحیثیت وزیر حلف لیا۔ وجے کانگریس کے تعاون سے اتحادی حکومت کی قیادت کریں گے۔ گورنر نے وجے کو 13 مئی یا اس سے پہلے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ جن نو لیڈران نے وزیر کے طور پر حلف لیا وہ ہیں بسی این آنند، آدھو ارجن، کے جی ارون راج، کے اے سینگوٹّیان، پی وینکٹ رمن، سی ٹی آر نرمل کمار، اے راجموہن، ٹی کے پربھو اور ایس کیرتھنا۔
حلف برداری کی اس تقریب میں ملک کے کئی بڑے رہنما بھی شریک ہوئے جن میں کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، تلنگانہ کی سابق گورنر اور بی جے پی لیڈر تمل سائی سوندرراجن، بی جے پی رہنما کے اناملائی اور تمل ناڈو بی جے پی کے صدر نینار ناگیندرن بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فلم اور سیاست کی دنیا کی کئی نامور شخصیات بھی اس تقریب کا حصہ بنی ہیں۔ وجے کے والدین بھی اس خاص موقع پر موجود ہیں۔ وہیں اداکارہ ترشا کرشنن کی موجودگی نے بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ وجے کے فلمی کیریئر اور سیاست، دونوں میں ان کی مقبولیت کا اثر تقریب میں صاف دکھائی دیا۔
قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو اسمبلی انتخاب میں وجے کی پارٹی کو 108 سیٹیں ملی تھیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 118 سیٹوں کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک سیاسی ہلچل مچی رہی۔ کانگریس نے پہلے ہی حمایت دے دی تھی اس کے بعد دیگر پارٹیوں نے بھی وجے کی حمایت کر دی۔ اس وقت وجے کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ کو کانگریس کے 5 اراکین اسمبلی اور سی پی آئی، سی پی آئی ایم، وی سی کے سمیت آئی یو ایم ایل کے 2-2 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تمام جماعتیں ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (ایس پی اے) کا حصہ بن کر الیکشن لڑی تھیں۔
وزیر اعلیٰ بننے کے بعد، وجے حرکت میں آئے اور دستاویزات کے پہلے سیٹ پر دستخط کر دیے۔ ان میں 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے احکامات، خواتین کی سیکیورٹی فورس کی تشکیل اور انسداد منشیات اسکواڈ شامل ہیں۔ یہاں جواہر لعل نہرو انڈور اسٹیڈیم میں حلف برداری تقریب کے فوراً بعد وجے نے سینئر افسران اور وزراء کی موجودگی میں اہم سرکاری فائلوں پر دستخط کیے، جو ٹی وی کے حکومت کے فلاح و بہبود اور حکمرانی کے ایجنڈے کے آغاز کا اشارہ تھا۔تمل ناڈو کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں وجے نے کہا کہ وہ جھوٹے وعدوں سے عوام کو کبھی گمراہ نہیں کریں گے اور ایمانداری سے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کسی شاہی یا سیاسی خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے، پھر بھی لوگوں نے انہیں قبول کیا اور حمایت کی۔ اس کے بعد انہوں نے خواتین کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی فورس کی تشکیل اور گھریلو صارفین کو 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے سے متعلق پہلی فائلوں پر دستخط کیے۔سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ (آئی ایم یو ایل) نے بھی اس اتحاد کی حمایت کی جس سے اس کی تعداد 120 ممبران اسملی تک پہنچ گئی۔ تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اسٹیڈیم کے اندر صرف تقریباً 6 ہزار مہمانوں کو ہی وی آئی پی پاس کے ذریعہ جانے کی اجازت تھی۔ سیکورٹی انتظامات کی نگرانی چنئی پولیس کمشنر نے کی، جس میں 5 ایڈیشنل کمشنر اور 12 جوائنٹ کمشنر سیکورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے تھے۔
اس تقریب میں متعدد سرکردہ سیاستدانوں اور فلمی شخصیات نے شرکت کی، جن میں لوک سبھا سبھی میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، اتحادی قائدین، وجے کے والدین، رشتہ دار، دوست اور تمل فلم انڈسٹری کی اہم شخصیات شامل تھیں۔ وجے کے ساتھ ساتھ این آنند، آدھو ارجن، ڈاکٹر کے جی ارون راج، کے اے سینگوتیان، پی وینکٹ رمن، آر نرمل کمار، راج موہن، ڈاکٹر ٹی کے پربھو اور ایس کیرتن نے نئی کابینہ میں وزیر کے طور پر حلف لیا۔ اس تقریب نے تمل ناڈو کی سیاسی تاریخ میں ایکنئے باب کا اضافہ کیا جس نے ریاست کی روایتی دراوڑ پارٹیوں کے کئی دہائیوں کے تسلط کا خاتمہ کرتے ہوئے وجے کی قیادت میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کیا۔











