شان رسالتؐ میں کے معاملہ میں بی جے پی رکن اسمبلی کی گرفتاری میں سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط کاخیال بھی نہیں رکھا گیااورحد تو یہ بھی ہے کہ پیغمبر اسلام کے خلاف کئے گئے ریمارکس کی سی ڈی بھی شواہد کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کی گئی
حیدرآباد : (ہندوستان ایکسپریس نیوز بیورو) شان رسالتؐ میں بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کی اشتعال انگیزی معاملہ میں عدالت سے آسانی سے ضمانت منظور ہونے پر پولیس کا رول مشکوک نظر آرہا ہے ۔ کیا پولیس عہدیداروں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ریمانڈ رپورٹ تیار کرنے سے قبل ملزم کو سی آر پی سی کے دفعہ 41A کے تحت نوٹس جاری کرنا لازمی ہے ۔ حالانکہ حیدرآباد سٹی پولیس میں کئی ماہرین قانون اور پبلک پراسیکیوٹرس موجود ہیں تو کیوں نہیں اس کیس میں ان کی خدمات حاصل کی گئیں ؟ ایسا لگتا ہے کہ راجہ سنگھ کی زہرافشانی کے بعد اندرون 12 گھنٹے دونوں شہروں میں جس شدت سے احتجاج و مظاہرے کئے گئے، اس کو ماند کرنے کیلئے پولیس نے جلد بازی میں گرفتاری عمل میں لائی ۔ جبکہ اس کیس کی اہمیت اور نوعیت کو نظرانداز کرتے ہوئے محض ایک ریمانڈ رپورٹ کو کورٹ میں پیش کردیا اور ملزم رکن اسمبلی کو جیل بھیجنے کی درخواست کی ، لیکن متعلقہ مجسٹریٹ نے اس ریمانڈ رپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کردیا کیونکہ بادی النظر میں پولیس کی جلد بازی میں کی گئی کارروائی کو عدالت نے مسترد کردیا ۔ سیاست نیوزکے بقول پولیس کی اس حرکت سے ایسا لگتا ہے کہ دونوں شہروں میں مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کیلئے یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی جو حقیقت میں قانون کی نظر میں ناقابل قبول ہے ۔
ماہرین قانون اور بعض پولیس عہدیداروں کا یہ رجحان ہے کہ بی جے پی رکن اسمبلی کی جانب سے گستاخانہ ویڈیو جاری کرنے کے بعد اس کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس کیس میں اس کی فی الفور گرفتاری کے بجائے اگر سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط یعنی سی آر پی سی کی نوٹس جاری کرنا اور ایک یا دو دن کی مہلت دینے سے کیس مزید مستحکم ہوسکتا تھا لیکن کسی بھی پولیس عہدیدار نے اس معاملہ میں قواعد کا استعمال کرنا ضروری نہیں سمجھا اور عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے گرفتاری عمل میں لائی، جو عدالت میں ناکام ہوگئی ۔
سپریم کورٹ نے یہ واضح طور پر بتایا ہے کہ 7 سال سے کم مدت کے جرائم میں ملزم کو سی آر پی سی کی نوٹس دینا لازم ہے اور اس کے بعد ملزم کو اس کا موقف واضح کرنے کی بھی مہلت دی جائے لیکن راجہ سنگھ کے کیس میں ایسی کیا وجہ تھی کہ پولیس نے اپنی عقلمندی کا مظاہرہ کرنے سے گریز کیا جبکہ دیگر معاملات یعنی اقلیتی طبقہ کے افراد کی گرفتاری میں پولیس کی ٹیم منصوبہ بند طریقہ سے کام کرتی ہے اور انہیں سزا دلانے کیلئے بھی خصوصی پولیس عہدیداروں کو ذمہ داری دی جاتی ہے ۔ استغاثہ نے نامپلی کورٹ میں راجہ سنگھ کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں دینے کیلئے زور تو دیا لیکن یہ بات بتانے سے قاصر رہے کہ سابق میں بھی اس کے خلاف اسی نوعیت کے مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ اور اس مخصوص کیس میں پیغمبر اسلام کے خلاف کئے گئے ریمارکس کی سی ڈی بھی شواہد کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کی گئی ۔ عوام میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت فرقہ پرست طاقتوں کو کچلنے کیلئے کمربستہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ پولیس عہدیدار اس کے برعکس کھلے عام لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی اہم نوعیت کے کیس میں بھی سنجیدہ طور پر کام کرنے سے قاصر ہیں ۔ راجہ سنگھ کے معاملہ میں پولیس کی مکمل ناکامی کا ذمہ دار کس پولیس عہدیدار کو ٹھہرایا جائے گا ؟یہ ایک توجہ طلب سوال ہے۔
خاص بات یہ بھی ہے کہ عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد رکن اسمبلی کا والہانہ انداز میں خیر مقدم ہی نہیں ہوا،بلکہ اس موقع پر جئے شری رام کے نعرے بھی بلند کئے گئے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کی بھی کوشش کی گئی












