کلکتہ 13مارچ (یواین آئی) وزیر اعلیـ ممتا بنرجی نے اپنے بھائی سوپن بنرجی کو ٹکٹ دینے سے انکارکرنے اورا ن کی بغاوت کی صورت میں قطع تعلق کرنے کے اعلان کے ساتھ انہوں نے نریندر مودی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترنمو ل کانگریس میں اقربا پروری نام کی کوئی چیز نہیں ۔ترنمول کانگریس کے ذرائع کے مطابق بابون خود ہوڑہ میں ترنمول کانگریس کا امیدوار بننا چاہتے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ ہوڑہ کے ووٹر بھی بن گئے۔ ان کا مقصد پارٹی پر دبائو بنانا تھا۔ٹکٹ نہیں ملنے کے بعد انہوں نے پارٹی قیادت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نااہل شخص کو امیدوار بنایا گیا ہے اس لئے میں آزاد طور پر انتخاب لڑوں گا۔اس جواب میں ممتا نے واضح کیا کہ ان کے بھائی سے پورا خاندان ناراض ہے۔ان کا بنرجی خاندان سے رشتہ منقطع ہو گیا ہے۔ یہ سن کر بابون نے پھر یو ٹرن لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ دیدی ان کی سرپرس ہیں۔ وہ دوبارہ دیدی کے ساتھ اپنی جگہ لے گا۔ یہ بنرجی خاندان کا اندرونی معاملہ ہے۔ لیکن ترنمول لیڈر ممتا نے اس سے بھی بڑے پیمانے پر پیغام دیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال میں حال ہی میں چار میٹنگوں میں ترنمول پر اقربا پروری کا الزام لگایا ہے – آرام باغ، کرشنا نگر، باراسات اور سلی گوڑی میں ریلی سے خھاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کی اقربا پروری کی سخت تنقید کی ۔سلی گوڑی میں انہیں نے بھتیجے کو نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول اور کانگریس خاندانی نظام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ترنمول ایک بھتیجے کے لیے سب کچھ کر رہی ہے اور کانگریس شاہی خاندان کے کسی فرد کو اقتدار میں لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔قائد حزب اختلاف شوبھندو ادھیکاری نے ایک قدم آگے بڑھ کر ترنمول کانگریس کو پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی قرار دیا۔
ممتا بنرجی نے بابون کے نام پر وزیر اعظم مودی کو جوابد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی میں ٹکٹ صرف اس لیے نہیں دیا جاتا ہے کہ وہ خاندان کے فرد ہیں۔ جن کو ترنمول سے ٹکٹ ملا ہے، انہیں میرٹ کے حساب سے ملا ہے۔ ایک مختلف تناظر میں، ممتا نے بدھ کو یہ بھی کہا کہمیں نے اکیلے امیدوار کا فیصلہ نہیں کیا۔ میں نے جو بھی کیا ہے، مل کر کیا ہے۔ ممتا نے منگل کو ایک بار پھر اپنےبڑے خاندان کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خاندان جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ ماں مٹی کے لوگ میرا خاندان ہیں۔
ممتا کی سیاسی زندگی پانچ دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے۔ ابھیشیک 2014 میں لوک سبھا الیکشن لڑنے والے اپنے خاندان کے پہلے رکن تھے۔ وہ ڈائمنڈ ہاربر سے لگاتار دو بار رکن پارلیمنٹ بنے۔ وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لیے بھی ترنمول کے امیدوار ہیں۔ابھیشیک بنرجی کے بعد ممتا کے بھائی کارتک بنرجی کی بیوی کجاری بنرجی کو کلکتہ کارپوریشن انتخاب میں امیدوار بنایا گیا وہ جیت کر کونسلر بھی بن گئیں۔ممتا بنرجی ماضی میں کئی بار کہہ چکی ہیں کہ ابھیشیک کا سیاست میں داخلہ خاندانی وجوہات کی وجہ سے نہیں تھا۔ ابھیشیک کو بچپن سے ہی سیاست میں دلچسپی تھی۔ ممتا نے کہا کہ جب سی پی ایم نے مجھے مارا تو ابھیشیک اکیلے کندھے پر جھنڈا لے کر گھر تک مارچ کرتے تھے اور نعرے لگاتے تھے، تم نے دیدی کو کیوں مارا؟ سی پی ایم جواب دو!۔اس کے علاوہ، ابھیشیک نے بارہا کہا ہے کہ ایک ہی خاندان کے متعدد افراد ووٹ کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے – اگر مودی حکومت اس کے لیے کوئی قانون پاس کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایسا بل لاتے ہیں ہے، تو وہ پہلے اس بل کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو بھی کھلا چیلنج کیا ہے۔بیرک پور سے بی جے پی کے ایم پی ارجن سنگھ کی بغاوت پر ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’ارجن اب بھی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) ہیں۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ کا عہدہ نہیں چھوڑا۔ بیرک پور میں ہمارے امیدوار پارتھا بھومک ہیں۔ وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ وزیر آبپاشی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ممتا نے بدھ کو واضح کیا کہ ترنمول نے میرٹ کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کیا ہے۔ پارٹی کے ساتھ وفاداری، کون کیسے کام کرتا ہے – امیدوار کا فیصلہ مختلف اشاریوں پر غور کر کے کیا جاتا ہے۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اکیلے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل نہیں دی ہے۔












