جن سنگھ کے بانی کو وزیر اعلیٰ بہارنے خراج عقیدت پیش کیا
پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار جنہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے،میڈیامیں ان کےحوالے سے اکثر قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں کہ وہ ایک بار پھر راستے بدل سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ این ڈی اے کی سواری کر سکتے ہیں۔ اس قسم کی قیاس آرائیوں کو تقویت تب اور ملتی ہے، جب این ڈی اے کے خیمہ سے ان کی آمد کے استقبال کا اشارہ دیا جانے لگتا ہے۔ پچھلے دنوں وزیر داخلہ کے ذریعہ جب ایک پروگرام کے دوران نتیش کمار کو واضح لفظوں میں ” ہردے پریورتن” کیلئے راغب کرتے دیکھا گیا،جب بھی اٹکلوں کا بازار گرم ہوگیا کہ کیا نتیش "انڈیا” نامی سیاسی محاذ کو چھوڑ کر این ڈی اے کی سیاسی چھتری تو نہیں لگا لیں گے؟ بہرحال! نتیش کمار سے پیر کو اس بارے میں سوال کیا گیا۔خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق صحافیوں نے نتیش کمار سے سوال کیا کہ کیا اس بات میں کوئی سچائی ہے کہ وہ این ڈی اے کے بھی دلدادہ ہیں، اس پر نتیش کمار نے کہا’’کیا بات کر رہے ہیں؟ چھوڑویے نا!”ان کا مزید کہنا تھا کہ "کیا چرچہ کرتے رہنا ہے، آپ جانتے ہیں کہ ہم اپوزیشن کو اکٹھا کرنے میں کتنا مصروف رہے، کتنا بڑا کام ہو رہا ہے، کون کیا کرتا ہے، ہمیں اس سے کیا لینا دینا ۔”ہندی روزنامہ بھاسکرکی اطلاع کے مطابق انہوں نے کہا کہ”یہ سب فالتو بات ہے۔اس میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میرا صرف ایک نشانہ ہے، اپوزیشن کو متحد کرنا”۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جب نتیش کمار یہ جواب دے رہے تھے تو پاس کھڑے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل لیڈر تیجسوی یادو مسکرا رہے تھے۔
प्रसिद्ध विचारक एवं स्वतंत्रता सेनानी स्व. पंडित दीनदयाल उपाध्याय जी की जयंती पर आयोजित राजकीय समारोह में उनकी प्रतिमा पर पुष्पांजलि अर्पित कर नमन किया।#JDU #Bihar#NitishKumar #Patna pic.twitter.com/hSDDuKjGqp
— CM Bihar Nitish Kumar (@CMBiharNK) September 25, 2023
این ڈی اے سے علیحدگی کے بعد نتیش کمار نے ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ لیڈروں سے ملاقات کی اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کی پہل کی۔ پٹنہ میں ہی اپوزیشن جماعتوں کی پہلی میٹنگ ہوئی۔ بعد میں اس اتحاد کو ‘انڈیا’ کا نام دیا گیا۔

تاہم، وقتاً فوقتاً یہ دعوے بھی کیے جاتے ہیں کہ نتیش کمار ناخوش ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ سیدھے سوال کا نتیش کمار اکثر سیدھا جواب نہیں دیا کرتے،جس کی وجہ سے درحقیقت قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند ہونے کی بجائے مزید آگے بڑھ جاتا ہے۔ تازہ سوال کا جواب نتیش کمار نے جو دیا،وہ اپنی جگہ،مگر جب سنگھ کے بانی پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یوم پیدائش سے متعلق پروگرام کو وزیر اعلیٰ بہار کے ذریعہ ترجیح دیا جانا قیاس آرائیوں کو بڑھانے کی بھی وجہ بن رہا ہے۔
خیال رہے کہ نتیش کمارآج جن سنگھ (اب بی جے پی) کے بانی پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یوم پیدائش سے متعقلہ پروگرام میں شریک ہوئے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ نتیش کمار نے اس پروگرام کے لیے ہریانہ میں اپوزیشن کے اجتماع سے دوری اختیار کرلی۔
ادھرنتیش کی این ڈی اے میں واپسی کے سوال پر بہار کے سابق ڈپٹی سی ایم اور بی جے پی ایم پی سشیل مودی نے کہا کہ نتیش کمار سیاسی بوجھ بن چکے ہیں اور اب اگر وہ اس میں ناک بھی رگڑیں گے تو ان کی این ڈی اے میں انٹری نہیں ہونے والی ہے۔
اذہن نشیں رہے کہ انڈین نیشنل لوک دل نے کیتھل میں ہریانہ کے سابق وزیر اعلی چودھری دیوی لال کے یوم پیدائش کے پروگرام میں نتیش سمیت اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا۔ نتیش کمار نے اس میں شرکت نہیں کی اور پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یوم پیدائش سے متعلق پروگرام میں شرکت کے لیے آئے۔اس پر نتیش کمار نے کہا کہ ہم بہت سی جگہوں پر جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسی جگہوں پر جاتے ہیں جہاں انہیں جانا ہوتا ہے، اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔ وہاں پارٹی کا پروگرام پہلے سے طے ہے۔ اس پروگرام میں نتیش کے ساتھ ڈپٹی سی ایم تیجسوی بھی آئے تھے۔نتیش نے کہا- کوئی بھی پنڈت جی کو خراج عقیدت پیش کر سکتا ہے۔
نتیش کمار نے آنجہانی پنڈت دین دیال اپادھیائے کو ان کے یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔ دین دیال اپادھیائے کے یوم پیدائش کے پروگرام میں پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ کوئی بھی جا کر خراج تحسین پیش کر سکتا ہے۔ جو لوگ دین دیال جی کے خیالات سے متفق ہیں اور نہیں آرہے ہیں انہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ کیوں نہیں آرہے ہیں۔ سی ایم کے جانے کے بعد بی جے پی لیڈر پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یوم پیدائش کے پروگرام میں پہنچے۔ موقع پر موجودبی جے پی لیڈرسمراٹ چودھری نے کہا کہ ہمیں سرکاری پروگرام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اگر ان کے پاس معلومات ہوتی تو وہ ضرور آتے۔ نتیش کمار اور تیجسوی کی شرکت پر سمرت چودھری نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے، انہیں شامل ہونا چاہیے۔ عظیم انسانوں کا احترام کرنا چاہیے۔












