مہراج گنج، 18نومبر (یو این آئی)صحت مند معاشرہ کی تشکیل آج وقت کی اہم ضرورت ہے، آج معاشرہ میں جنم لینے والی بیماریوں کے خاتمے اور ہندوستانی مسلمانوں کی ایمان کی حفاظت میں جو کردار مدارس دینیہ کا رہا ہے ، اس سےانکار نہیں کیا جاسکتا ۔اس امر کا اظہار خانوادۂ مدنی کے لائق فائق فرزند ، مولانا سید حبیب اللہ مدنی نے جمعیة الطلبہ کے زیر اہتمام طلبائے دارالعلوم فیض محمدی کی انجمن فیض اللسان کا سالانہ اجلاس میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ برائیوں سے انسان کو بچناچاہئے،چوں کہ برائیاں نیکیوں کو بھسم کرڈالتی ہیں ۔ اس لئے معاشرہ کے ایک ایک فرد کے لئے ضروری ہے کہ کلی طور پر ممنوعات ، اور برائیوں سے اجتناب کرے، نیکی بھری زندگی گذارنے کی سعی کرے اور انبیاءو صحابہ کرام کو مشعل راہ بناتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے۔
مہان خصوصی نے کہا کہ طلباءکے ذریعہ پیش کئے گئے سار ے پروگرام بہت اچھے لگے۔ طلباءکی تقریری صلاحیتوں کو دیکھ کر اور سن کر یہ احساس ہوا کہ اساتذہ نے بڑی جدوجہد کے ساتھ انہیں اس لائق بنایا ہے۔اخیر میں کلمات تبریک پیش کرتے ہوئے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا کہ آج ہم اپنے بیچ خانوادۂ مدنی کے لائق فائق فرزند ، مولانا سید حبیب اللہ مدنی کو دیکھ رہے ہیں ، جن کے خطاب میں وہی گھن گرج اور جلال دکھائی دے رہا ہے، جو ہم سب کے قائد محترم جناب مولانا سید ارشد مدنی میں دکھائی پڑتاہے،،
ادارہ کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے مہمان ذی وقار مولانا سید حبیب اللہ مدنی،و رکن شوریٰ مولانا طارق شفیق ندوی سمیت تمام مہمانوں کا پرجوش خیر مقد م کرتے ہوئے ، ان کی خدمت میں مومنٹو پیش کیا۔ موصوف نےکہا کہ مدارس دینیہ اسلام کے مضبوط قلعہ ہیں، جو کچھ بھی دنیا میں دینی چہل پہل ہے ، وہ سب انہیں دینی اداروں کی مرہون منت ہیں۔الحمد للہ ادارہ کی جملہ سرگرمیاں اقراایجوکیشنل اینڈ ٹیکنکل فاؤنڈیشن کی نگرانی میں جاری ہیں، جس کی سرپرستی والدبزرگوار مولانا قاری محمد طیب قاسمی کررہے ہیں، جو اپنی پوری جانفشانی او ر قربانیوں سے اس دینی محل کی تعمیر وترقی اور معیار تعلیم کو بہتر سے بہتر کرنے میں مصروف ہیں۔
اردو تقریر علیاءمیں ،محمد سلیمان ، اردو تقریر سفلیٰ میں ، عربی تقریر میں محمد فرحان ، انگلش تقریر میں محمدجاوید، ہندی تقریرمیں امام الدین د ، نعت میں محمد حسان، قرات میں محمد بلال، پہلی پوزیشن حاصل کی ، ، جنہیں مہمان خصوصی اور علما ءدین کے ہاتھوں شیلڈ وانعامات دیئے گئے۔
ادارہ کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ : آج جس ادارہ میں آپ حضرات موجود ہیں، یہ تقریباً تین دہائی قبل مولانا قاری محمد طیب قاسمی وانکے رفقاءکار کی مخلصانہ کوششوں سے وجود میں آیا، جس کا شمار اتر پردیش کے ممتاز دینی وعصری اداروں میں ہوتا ہے، جہاں شعبہ حفظ کے علاوہ پرائمری درجات سے عالیہ ثانیہ(مشکوٰة وہدایہ) سمیت تمام تر عصری مضامین این سی ، ای، آر، ٹی منہج تعلیمی کے مطابق پڑھائے جاتے ہیں۔
اجلاس میں ڈاکٹر ولی اللہ ندوی،ایڈوکیٹ مہتاب عالم۔ احمد رشید۔مولانا شبیر ندوی۔اتاب اللہ سیٹھ۔لیاقت علی بھٹو والے۔مولانا فخر الدین ۔مولانا عبد اللہ۔مولانا نصیر الدین ندوی، حافظ محمد حارث، حافظ شعیب، غیاث الدین، حافظ عمر ، مولانا عرفان اللہ قاسمی، مولانا مجیب بستوی، ڈاکٹر محمد عمر خان، حافظ ضیاءالحق ، مولانا محمد یوسف۔ثناء اللہ کلثوم بیگ۔مولانا سراج الدین۔پروفیسر صغیر عالم سمیت مستورات کی بڑی تعداد موجود تھی ۔