بدھ, فروری 18, 2026
  • Login
Hindustan Express
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper
No Result
View All Result
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper
No Result
View All Result
Hindustan Express
Epaper
No Result
View All Result
Home اخبارجہاں

آسٹریلین سینیٹ کی پہلی باحجاب رکن فاطمہ پیمان کا پہلا خطاب

شاہدالاسلام by شاہدالاسلام
ستمبر 8, 2022
in اخبارجہاں, خاص خبریں
0
آسٹریلین سینیٹ کی پہلی باحجاب رکن فاطمہ پیمان کا پہلا خطاب
0
SHARES
25
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

آئے دن ‘جہاں سے آئی ہو، وہاں واپس جاؤ‘ جیسے طعنے سننے والی افغانی النسل خاتون کی کہانی،خود اُن کی زبانی

نئی دہلی( ہندوستان ایکسپریس ویب ڈیسک):فاطمہ پیمان کا آسٹریلیا کی پہلی حجاب پہننے والی رکن پارلیمان بننے کی طرف سفر اس وقت شروع ہوا جب یونیورسٹی میں ایک ہم جماعت نے ان کے ہیڈ اسکارف کا مذاق اڑایا تھا۔ فاطمہ شعبہ دوا سازی کی طالبہ رہی ہیں۔ انہوں نے بچپن میں اپنی فیملی کے ساتھ افغانستان سے جان بچا کر آسٹریلیا پہنچنے کے بعد ہمیشہ یہی محسوس کیا تھا کہ آسٹریلوی معاشرہ انہیں پوری طرح قبول کرتا ہے۔ تاہم جب یونیورسٹی کے ایک ٹیوٹوریل کے دوران ان کے ہیڈ اسکارف پر انہی کے ایک ساتھی نے ان کا تمسخر اڑایا، تو انہیں احساس ہوا کہ آسٹریلوی معاشرے میں بھی ایسے عناصر ہیں، جو عدم روا داری کا شکار ہیں، تو انہوں نے سیاسی طور پر فعال ہو جانے کا فیصلہ کر لیا۔ جرمن خبر رساں ادارہ ڈوئچ ویلے کی اردو سروس نے ان کی سیاسی زندگی کی کہانی کچھ یوں بیان کی ہے۔

مغربی آسٹریلیا کے ایک حصے سے نئی سینیٹر منتخب ہونے والی فاطمہ پیمان نے منگل کے روز اپنی اولین تقریر میں اپنے خاندان کی ہجرت کی کہانی سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی فیملی افغانستان سے بھاگ کر پاکستان گئی تھی۔ بعد ازاں اس خاندان نے آسٹریلیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور شہر پرتھ میں آ کر وہاں آباد ہو گیا۔ فاطمہ کے والد عبدالوکیل پیمان 1999ء میں پاکستان سے رخصتی کے بعد ایک کشتی کے ذریعے آسٹریلیا آئے تھے، جہاں انہوں نے چار سال تک بہت محنت کی اور اس وقت کا انتظار کرنے لگے کہ ان کے اہل خانہ بھی آسٹریلیا پہنچ جائیں اور سارا خاندان دوبارہ مل کر زندگی بسر کرنے لگے۔
فاطمہ پیمان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کے والد نے آسٹریلیا میں امتیازی سلوک کا سامنا کیا، انہیں ان کی محنت کی بہت کم اجرت دی جاتی تھی اور روزگار کے حصول کے سلسلے میں بھی انہیں عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم والد کی محنت اور قربانیوں کی وجہ سے فاطمہ کو ایک خوشحال بچپن ملا۔ انہوں نے آسٹریلین سینیٹ میں اپنی پہلی تقریر میں کہا،” مجھے پہلی بار اپنے اجنبی ہونے یا اس معاشرے میں تسلیم شدہ نہ سمجھے جانے کا تجربہ یونیورسٹی میں خود میرے ایک ساتھی طالب علم کی طرف سے میرے حجاب کا مذاق اڑائے جانے کی وجہ سے ہوا۔‘‘ ستائیس سالہ پیمان نے مزید کہا، ”میں نے پروان چڑھتے ہوئے خود کو کبھی بھی مقامی بچوں سے مختلف محسوس نہیں کیا تھا۔ پرتھ کا علاقہ میرے لیے میرے گھر کی طرح تھا۔ آپ کا گھر وہاں ہوتا ہے جہاں آپ کا دل ہو۔ اور میرا دل میری فیملی کے ساتھ تھا۔‘‘
فاطمہ پیمان نے ملکی سینیٹ میں اپنے احساسات کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے کہا”میں نے خود کو کچھ مختلف یا عجیب محسوس نہیں کیا، میں نے اپنا آپ کسی بھی دوسرے آسٹریلوی بچے کی طرح محسوس کیا، پرتھ کے شمالی مضافات میں پلی بڑھی۔ یونیورسٹی تک پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتی رہی اور معاشرے کی ایک مفید رکن بننے کی امید میں اپنا سفر جاری رکھا۔ لیکن آئے دن ‘جہاں سے آئی ہو، وہاں واپس جاؤ‘ جیسے تبصروں یا انتہا پسندانہ رویوں نے مجھے یہ محسوس کرنے پر مجبور کر دیا کہ میرا تعلق اس معاشرے سے نہیں ہے۔‘‘
سینیٹر فاطمہ پیمان نے منگل کی رات پارلیمنٹ میں اپنی اولین تقریر کے دوران خاص طور پر اپنا حجاب پہن رکھا تھا اور وہ اپنے مرحوم والد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہو گئیں۔
فاطمہ نے سینیٹر بننے کے بعد اپنے والد سے متعلق کچھ نئی کہانیاں بھی سنائیں اور نئے انکشافات بھی کیے۔ ان کے والد 2018 ء میں خون کے سرطان کا شکار ہو کر انتقال کر گئے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کو سینیٹر بنتا نہ دیکھ سکے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر محض 47 سال تھی۔ فاطمہ نے اپنے والد کے آسٹریلیا آنے کے گیارہ روزہ سفر کی کچھ تکلیف دہ تفصیلات کا بھی ذکر کیا۔ فاطمہ کے بقول، ”میری ماں بے چینی اور منفی خیالات کے سیلاب میں ڈوبی رہتی تھی، ہر لمحے اس انتظار میں کہ میرے والد کے خیریت سے آسٹریلیا پہنچنے کی کوئی خبر آئے۔ چار ماہ کے انتظار کے بعد ہمیں میرے والد کے آسٹریلیا پہنچنے کی خوش خبری ملی تھی۔‘‘
فاطمہ اپنے والد عبدالوکیل پیمان، والدہ اور تین چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ جب آسٹریلیا پہنچی تھیں، تو اس وقت ان کی عمر آٹھ برس تھی۔ پرتھ میں اسلامی کالج میں پانچویں جماعت میں فاطمہ کا داخلہ ہوا۔ فاطمہ کے دادا افغانستان میں کئی سال پہلے پارلیمانی رکن رہ چکے تھے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کا پورا خاندان ملک چھوڑ کر پاکستان چلا گیا تھا۔
آسٹریلیا پہنچنے کے بعد امیگریشن کے سلسلے میں زیر حراست رہنے کے دور میں فاطمہ کے والد نے بہت سخت مشقت کی تاکہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔ انہوں نے کچن میں ہیلپر کا کام کیا، ٹیکسی چلائی اور سکیورٹی گارڈ کے طور پر کئی کئی گھنٹوں کی سخت ڈیوٹی بھی دیتے رہے۔
فاطمہ پیمان پرتھ کے اسلامی کالج کی ہیڈ گرل تھیں، جہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔
فاطمہ نے جب سینیٹ سے خطاب کیا، اس وقت ان کی والدہ اور دو بھائی، ایک بہن اور بھتیجے بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں شامل ہونا دراصل نوجوانوں کے لیڈر شپ گروپس کا حصہ بننے، پولیس ایڈوائزری گروپس اور مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشنوں میں شمولیت کا محرک بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا، ”میں نے تبدیلی کا حصہ بننے کی امید میں رضاکارانہ طور پر کام شروع کیا تاکہ مجھے معاشرے میں اچھائی پھیلاتے ہوئے دیکھا جائے تو شاید مجھے اس قوم کا ایک برابر کا فرد تسلیم کر لیا جائے۔‘‘ فاطمہ کے مطابق، ”ایک پناہ گزین کی بیٹی کے طور پر جو ایک محفوظ اور بہتر مستقبل کے خواب لے کر اس سرزمین پر آئی تھی، میں نے نظام کو چیلنج کرنے اور یہ دیکھنے کی ہمت کی کہ میں کس حد تک تبدیلی لا سکتی ہوں۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی سیاست حتیٰ کہ پارلیمانی ایوان بالا بھی اکثر ‘اجنبیوں سے بیزاری‘ اور نسلی اور مذہبی خوف سے متاثر نظرآتا ہے۔فاطمہ پیمان نے اپنے ساتھی ممبران پارلیمنٹ کو چیلنج کیا کہ وہ تعصب، نسل پرستی اور امتیازی سلوک کو ختم کریں اور ان امور پر صرف لب کشائی ہی نہ کریں بلکہ عملی اقدامات بھی کریں۔

Tags: آسٹریلیاافغانی النسلفاطمہ
ShareTweetSend
Previous Post

اداکار کمال رشید خان کو جنسی ہراسانی کے معاملے میں ملی ضمانت

Next Post

ہندوستان میں امریکی مشن نے 2022 میں سب سے زیادہ تعداد میں اسٹوڈنٹ ویزے جاری کئے

شاہدالاسلام

شاہدالاسلام

Indian journalist . As a News Editor of Hindustan Express currently working in New Delhi

Next Post
ہندوستان میں امریکی مشن نے 2022 میں سب سے زیادہ تعداد میں اسٹوڈنٹ ویزے جاری کئے

ہندوستان میں امریکی مشن نے 2022 میں سب سے زیادہ تعداد میں اسٹوڈنٹ ویزے جاری کئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

خبریں

امریکہ میں خاندانی جھگڑا،ہند نژاد خاتون سمیت چار  ہلاک

امریکہ میں خاندانی جھگڑا،ہند نژاد خاتون سمیت چار ہلاک

جنوری 24, 2026
تعلیمی اداروں کو ڈریس طے کرنے کا اختیارہے:عدالت عظمیٰ

اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر معاملہ میں مرکز کی اپیل مسترد

جنوری 19, 2026
ہندوستان اور یو اے ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہندوستان اور یو اے ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

جنوری 19, 2026
اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا قومی سطح کا پروگرام 2 اکتوبر سے شروع ہوگا

بہار میں صنعت کاروں کو اقتصادی پیکیج فراہمی: نتیش کمار

جنوری 19, 2026
مرکزی الیکشن کمیشن کی ٹیم کا آئندہ ماہ دورہ تلنگانہ

ترنمول کانگریس کو الیکشن کمیشن کا سخت انتباہ

دسمبر 31, 2025
لالو یادو کے قریبی امیت کاتیال کو ای ڈی نے کیا گرفتار

رائے پورسمیت دس مقامات پر ای ڈی کا چھاپہ

دسمبر 31, 2025
سنجے راوت کی ضمانت منظور

سنجے راوت کو ملی بم سے اڑانے کی تحریری دھمکی

دسمبر 31, 2025
سی پی آئی کا صد سالہ یومِ تاسیس

سی پی آئی کا صد سالہ یومِ تاسیس

دسمبر 26, 2025
500 کروڑ سے زائد کی جی ایس ٹی چوری کاانکشاف

500 کروڑ سے زائد کی جی ایس ٹی چوری کاانکشاف

دسمبر 26, 2025
انڈیگو بحران پرتحقیقاتی کمیٹی  کی رپورٹ حکومت کے سپرد

انڈیگو بحران پرتحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ حکومت کے سپرد

دسمبر 26, 2025

Categories

  • Featured
  • آئینہ شہر
  • آج کی خبریں
  • أخبار
  • اخبارجہاں
  • افکارِ جہاں
  • الیکشن
  • بزم شمال
  • بزنس
  • بہار نامہ
  • پارلیمانی خبریں
  • جرائم
  • جہانِ اردو
  • جہانِ طب
  • حادثہ
  • حقوق انسانی
  • خاص خبریں
  • خدمتِ خلق
  • خصوصی پیشکش
  • دلچسپ
  • دہلی نامہ
  • دیارِ ملت
  • دیار وطن
  • دیارِادب
  • سائنس و تحقیق
  • سیاست
  • عالم اسلام
  • عدلیہ
  • فلسطین- اسرائیل جنگ
  • فن فنکار
  • قدرت کاقہر
  • قوس قزح
  • کانفرنس
  • کشمیرنامہ
  • کھلاخط
  • کھیل ایکسپریس
  • متحرك
  • مذہبی خبریں
  • موسيقى
  • میرا کالم
  • ہمسایہ

Tags

احتجاج اسرائیل اقوام متحدہ الیکشن الیکشن کمیشن امریکہ انتخابات اپوزیشن ایران اے ایم یو بنگلہ دیش بھارتیہ جنتا پارٹی بہار بی جے پی تلنگانہ جامعہ ملیہ اسلامیہ جموں وکشمیر حماس حکومت خواتین دہلی راجستھان راہل راہل گاندھی سپریم کورٹ عام آدمی پارٹی غزہ فلسطین لوک سبھا لوک سبھا انتخابات مسلمان ممبئی مودی مہاراشٹر نیشنل کانفرنس وزیر اعظم وزیر اعلیٰ پارلیمنٹ پاکستان کانگریس کرناٹک کشمیر کیجریوال ہماچل پردیش ہندوستان
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions

Web Editor: Shahidul Islam
.Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved

No Result
View All Result
  • ہوم
  • دیار وطن
  • آئینہ شہر
  • اخبارجہاں
  • بزم شمال
  • فن فنکار
  • کھیل ایکسپریس
  • خصوصی پیشکش
  • افکارِ جہاں
    • میرا کالم
    • قوس قزح
    • کھلاخط
  • Epaper

Web Editor: Shahidul Islam
.Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In