کیف (یو این آئی)یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قصبے برووری میں اسکول اور رہائشی عمارت کے نزدیک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔ جس میں وزیر داخلہ سمیت 17 افراد ہلاک ہوگئے ۔خبرایجنسی کے مطابق کیف کے قریب قصبے برووری میں بچوں کے اسکول کے نزدیک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، حادثے کے نیتجے میں یوکرین کے وزیر داخلہ سمیت 17 افراد ہلاک ہوگئے جس میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔برووری کے گورنر اولیکسی نے بتایا کہ یہ واقعہ ایک نرسری کے قریب پیش آیا ہے، اس سانحہ کے وقت نرسری اسکول میں بچے اور عملہ موجود تھا۔پولیس ترجمان کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 25 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 15 بچے بھی شامل ہیں جبکہ کئی مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ہیلی کاپٹر گرنے کی وجہ کیا ہے اس کے علاوہ روس کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین اور جرمنی کے درمیان ٹینکوں کی فراہمی کا معاہدہ ہونے والا ہے۔ جرمنی کے تیار کردہ جدید ٹینک یوکرین روس کی جارحیت کے خلاف استعمال کرے گا۔یورپین کونسل کے سربراہ چارلس مائیکل نے یوکرین کے وزیرِ داخلہ ڈینیز مناسٹرسکائی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ وہ یورپی یونین کے ایک عظیم ساتھی تھے۔ڈینیز مناسٹرسکائی کی عمر 42 برس تھی جب کہ وہ پیشے کے لحاط سے وکیل تھے اور جولائی 2021 سے یوکرین کی وزارتِ داخلہ کا قلم دان ان کے پاس تھا۔
As a result of a helicopter crash in Brovary Minister and Deputy Minister of Internal Affairs of Ukraine died. Emergency Service helicopter crashed at local kindergarten. 16 dead, two of them children. Terrible tragedy. pic.twitter.com/KiKR5ItDoI
— Maria Avdeeva (@maria_avdv) January 18, 2023
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق یوکرین کی نیشنل پولیس کے سربراہ ایہور کلیمنکو کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں وزیرِ داخلہ کے ساتھ ساتھ نائب وزیرِ داخلہ یوہن ینن اور سیکریٹری داخلہ یوری لبکووچ بھی سوار تھے۔کیف کے گورنر الیکسی کوبیلا نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں تین بچے بھی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر جس مقام پر گرا ہے وہاں قریب ہی چھوٹے بچوں کا ایک اسکول تھا۔مقامی حکام کا کہنا ہے ہیلی کاپٹر گرنے کے واقعے میں 29 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 15 بچے شامل ہیں۔واضح رہے کہ روس نے گزشتہ برس فروری میں یوکرین پر حملہ کیا تھا۔اس لڑائی کو ایک سال ہونے والا ہے، اس دوران روس نے یوکرین کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کیا البتہ بعض علاقوں سے یوکرینی فورسز قبضہ چھڑوانے میں کامیاب رہی ہیں۔روس کی جارحیت کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک نے اس کی مذمت کی ہے جب کہ امریکہ اور یورپ ، یوکرین کی بھر پور مدد بھی کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔