حیدرآباد(ہندوستان ایکسپریس ویب ڈیسک) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے آئندہ اجلاس کے انعقاد کے سلسلہ میں اب تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے کیونکہ وقف بورڈ کی قرارداد کے مطابق بورڈ میں چیف اکزیکیٹیو آفیسر موجود نہیں ہے اور 20 اکتوبر کو منعقدہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئندہ بورڈ کا اجلاس 29 اکتوبر کو منعقد کیا جائے گا۔ تلنگانہ ریاستی وقف بور ڈکے ذمہ داروں کے مطابق بورڈ کے اجلاس کے سلسلہ میں سی ای او کی خدمات حکومت کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اب تک اس فیصلہ پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں صورتحال غیر یقینی ہو چکی ہے کیونکہ 29اکتوبر کو منعقد ہونے والے بورڈ کے اجلاس کے سلسلہ میں تیار کئے گئے ایجنڈہ پر تبادلہ خیال کےلئے بورڈ کے ارکان آمادہ ہیں لیکن چیف اکزیکیٹیو آفیسر نہ ہونے کی وجہ سے بورڈ کا اجلاس منعقد ہونے کے امکانات موہوم ہوچکے ہیں۔سیاست نیوزکی اطلاع کے مطابق بورڈ کے اراکین کے مطابق جناب شاہنواز قاسم کی خدمات کو بورڈ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کو واپس کردیا تھا۔ اسی لئے سی ای او کی حیثیت سے ان کا اجلاس میں شرکت کرنا درست نہیں ہوگا۔
تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے متعلق حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت بورڈ کی تباہی کی راہیں ہموار کررہی ہے کیونکہ حکومت کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی خدمات کو واپس کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مخالف حکومت اقدام کیا ہے جبکہ وقف بورڈ ایک خود مختار ادارہ ہے اور مختلف عدالتوں میں وقف بورڈ کے جو مقدمات زیر التوا ہیں ان میں سب سے زیادہ مقدمات حکومت کے ہی دیگر محکمہ جات کے خلاف ہی لڑے جا رہے ہیں اور ایسے میں ریاستی حکومت بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود کا رویہ وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ وقف بورڈ اور چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے درمیان جاری اس رسہ کشی کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے کے ئے بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بیشتر عہدیدار اور سینیئر ملازمین نے رخصت حاصل کرلی ہے تاکہ اس تنازعہ کی یکسوئی کے بعد ہی خدمات سے رجوع ہوں۔بورڈ کے فیصلہ کو مخالف حکومت قرار دینے کی کوشش کرنے والے گروہ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان اور ارکان وقف بورڈ کے خلاف ماحول تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین میں اب یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ میں ’پولیس راج‘ چل رہا ہے اور وہ اس پولیس راج میں کام کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ آمرانہ رویہ وقف جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے اور قانون کے دائرہ میں اوقافی جائیدادو ںکو تباہ کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔م












