لکھنؤ:29نومبر(یواین آئی) سماج وادی پارٹی(ایس پی)سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت میں صرف چار دن کے سیشن اور اسمبلی میں سپلیمنٹری بجٹ پیش کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت عوام کے سوال اٹھانے پر روک لگانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کے سوالوں سے بچنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب حکومت گذشتہ بجٹ کی رقم ہی خرچ نہیں کرپارہی ہے تو پھر سپلیمنٹری بجٹ لانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ کھوکھلا بجٹ ہے۔ اسمبلی احاطے میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ سماج وادی پارٹیسال 2017 سے حکومت سے باہر ہے۔ جواب ان کو دینا چاہئے لیکن آج بھی یہ سوال سماجو ادی پارٹی سے کررہے ہیں۔
یادو نے کہا کہ پورے اتر پردیش کا صحت کا نظام خراب ہے، چاہے وہ ضلع اسپتال ہو یا پی اے سی یا سی ایس سی یا میڈیکل کالج۔ حکومت جان بوجھ کر سرکاری ہسپتالوں کو تباہ کر رہی ہے تاکہ پرائیویٹ نرسنگ ہومز کو فروغ دیا جا سکے۔
حکومت نجی نرسنگ ہومز اور پرائیویٹ لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت پرائیویٹ لوگوں کی براہ راست مدد کرنا چاہتی ہے۔ حکومت نجی اسپتالوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ادویات کی قلت ہے۔ بی جے پی کے ایک سابق رکن اسمبلی اپنے پوتے کو علاج کے لیے پی جی آئی لے کر آئے تھے۔ پی جی آئی میں اس کا علاج نہیں ہو سکا۔ وہ اسے بچا نہ سکے۔ یہ ایک مثال نہیں ہے۔ راج بھون کے قریب ایک خاتون نے بھی بچے کو جنم دیاتھا۔
انہوں نے کہا کہ آپ دارالحکومت لکھنؤ میں کہیں چلے جائیں، آپ کو ایمرجنسی میں داخلہ نہیں ملے گا۔ ایمبولینس بلانے پر دستیاب نہیں ہوگی۔ اسپتالوں میں بستر دستیاب نہیں ہوں گے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں دلالوں کے ذریعے علاج کروایا جا رہا ہے جہاں غریب عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔
یادو نے کہا کہ بی جے پی کے پاس ترقی کے نام پر کچھ نہیں ہے۔ جمہوریت میں ہم سب عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ پھر وہ ذاتی تبصروں پر آتا ہے۔ یہ لوگ جمہوریت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوامی احتساب سے بچا جا سکے۔












