حیدرآباد”یونانی طریقہ علاج سے بیماری جڑ پیڑ سے ختم ہوجاتی ہے اور دوائیوں کے مضر اثرات سے بچا جاسکتا ہے جب کہ ایلوپتھی طریقہ علاج میں مریض کو فی الفور آرام مل جاتا ہے لیکن بیماری جڑ پیڑ سے ختم نہیں ہوتی اور صحت پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یونانی طریقہ علاج سستا ہے لیکن لوگ اس کی طرف توجہ کم دیتے ہیں۔ خاص کر شوگر، بی پی، پتھری کا دائمی علاج اس میں موجود ہے۔ اس علاج کو عام کرنے کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر یاسمین صدیقی میڈیکل آفیسر سرکاری یونانی دواخانہ مستعد پورہ نے فری کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر میسکو کالج آف فارمیسی کے طلباء و طالبات نے کیمپ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔خصوصاً فارم ڈی کے طلبا ء و طالبات نے مریضوں کی تشخیص کا عملی نمونہ مشاہدہ کیا۔ ڈاکٹر محمد شاکر نے مریضوں کو بہترین مشوروں سے نوازا اور صحت کی اہمیت بتائی۔ یہ کیمپ میسکو کالج کے کنوینر ڈاکٹر سمیع اللہ خان صاحب کی نگرانی اور ڈاکٹر نعیم الدین خان صاحب کی سرپرستی میں چلایا گیا۔صدرمیسکو ڈاکٹر غوث محی الدین نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تقریباً 300لوگوں نے اس کیمپ سے استفادہ کیا اور مریضوں میں مفت دوائیں تقسیم کی گئی۔












