اکادمی کے نئے صدر اور نائب صدر کا انتخاب،چندربھان خیال ایکزیکٹیو بورڈ ممبر اور اردو کے کنوینر بنائے گئے
نئی دہلی(پریس ریلیز) ساہتیہ اکادمی کی نوتشکیل شدہ جنرل کونسل کی میٹنگ گزشتہ روز نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ کے دوران اکادمی کے نئے صدر اور نائب صدر کا انتخاب عمل میں آیا۔ انتخاب کے دوران جمہوری طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے باضابطہ پولنگ ہوئی اور اس میں کونسل کے تمام 99 ممبران نے شرکت کی۔ کارگزار صدر پروفیسر چندرشیکھر کمبار نے چناؤ کے نتیجے کا اعلان کیا جس کے مطابق ہندی کے ممتاز و معروف شاعر و ادیب اور اکادمی کے سابق نائب صدر ڈاکٹر مادھو کوشک کو صدر اور نائب صدر کے طور پر ہندی کی ادیبہ پروفیسر کمد شرما کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اکادمی کے ایکزیکٹیو بورڈ کے ممبران اور سبھی چوبیس زبانوں کے کنوینر کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔
نومنتخب صدر ڈاکٹر مادھو کوشک ہندی زبان کے ممتاز شاعر و ادیب ہیں۔ ان کی نظم و نثر کی چالیس سے زیادہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ حکومتِ ہند اور ملک کی مختلف ریاستی حکومتوں سے انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں 20 سے زیادہ اعلیٰ ترین ادبی انعامات و اعزازات حاصل ہوچکے ہیں۔ کئی ملکی اور غیرملکی زبانوں میں ان کی تخلیقات کے ترجمے ہوچکے ہیں۔ شری مادھو کوشک چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی کے صدر بھی ہیں۔ 2018 سے 2022 تک وہ ساہتیہ اکادمی کے نائب صدر رہے۔ اس سے قبل ساہتیہ اکادمی کی جنرل کونسل کے ممبر اور ہندی مشاورتی بورڈ کے کنوینر بھی رہے۔
نومنتخب نائب صدر پروفیسر کمد شرما ہندی ادیبہ، میڈیا ایکسپرٹ اور فیمنسٹ ہیں۔ آپ ادبی رسالہ ’ساہتیہ امرت‘ کی سابق مدیر اور پرسار بھارتی بورڈ کے تحت ’لٹریچر کور کمیٹی‘ کی سابق رکن ہیں۔ آپ مہاتما گاندھی انٹرنیشنل ہندی یونیورسٹی کی تعلیمی کمیٹی اور اٹل بہاری واجپئی یونیورسٹی، بھوپال کی ایکزیکٹیو کونسل ممبر بھی ہیں۔
اردو مشاورتی بورڈ کے نئے کنوینر اردو کے ممتاز شاعر و ادیب چندربھان خیال بنائے گئے ہیں۔ آپ 2008 سے 2011 قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، حکومت ہند کے وائس چیئرمین رہے۔ نیشل بک ٹرسٹ آف انڈیا کی اردو مشاورتی بورڈ کے ممبر، دلّی اردو اکادمی اور ہریانہ اردو اکادمی کی گورننگ کونسل کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ کئی شعری مجموعوں اور کرشمہ کہی جانے والی حضرت محمدؐ کی سیرت مبارک پر مبنی طویل شاہکار نظم ’لولاک‘ کے خالق چندربھان خیال کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، اقبال سمان، ٹیگور لٹریچر ایوارڈ، ماکھن لال چترویدی راشٹریہ سمان سمیت کئی اہم ترین انعامات و اعزازات سے نوازے جاچکے ہیں۔ اعلان کے مطابق ہندی کے کنوینر گووند مشرا، انگریزی کے مالاشری لال، کشمیری کے کنوینر شاد رمضان، میتھلی کے اُدے نارائن سنگھ، راجستھانی کے کنوینر ارجن دیو چارن بنائے گئے۔
ساہتیہ اکادمی کے زیر اہتمام آج چھ روزہ ادبی میلے کے دوسرے دن کا خاص پروگرام سمواتسر لیکچر تھا جو ممتاز ادیب، تخلیقی مفکر اور سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مشرا نے دیا۔ ’’قدیم مہاکاویہ اور متن کے افسانے: قانون اور زندگی سے متعلق جدید تشریحات‘‘ کے موضوع پر مرکوز یہ لیکچر زندگی کی اقدار کے لیے گہری تشویش کو ظاہر کرتا ہے اور ادبی تحریک اور موجودہ ادبی رجحانات کے لیے ایک نئی جہت کھولتا ہے۔ ان کے مطابق، قدیم مہاکاویہ کے تصورات اور متن کا کوئی زمانی یا مخصوص حوالہ نہیں ہے۔ اپنے لیکچر میں جسٹس مشرا نے ایکلویہ، گنگا کے بیٹے دیوورت، کرن وغیرہ سے متعلق مہابھارت کے کچھ اہم واقعات پر تبادلہ خیال کیا۔
مباحثہ کے تحت ’نظریہ اور ادب‘ موضوع پر پروگرام میں ابھے کے، انجو رنجن، ارون کمار ساہو، سریش گویل اور وِدیشا میترا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کی صدارت امریندر کھٹوا نے کی۔ امریندر کھٹوا نے اپنے صدارتی بیان میں کہا کہ ماضی میں بہت سے سفارت کاروں کی اہم ادبی کتابیں آچکی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے تجربے کا منظر نامہ بھی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے سازگار ہے۔
دوپہر کے اجلاس میں 24 ہندوستانی زبانوں کے ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ مصنفین نے اپنے تخلیقی تجربات شیئر کئے۔ پروگرام کی صدارت ساہتیہ اکادمی کے نائب صدر کمود شرما نے کی۔ ہندی ایوارڈ یافتہ بدری نارائن نے کہا کہ ہمارا ’مقام’ ہماری طاقت ہے۔ ہمیں اس میں موجود تخلیقی قوت کو دریافت کرنا اور لانا ہے، انہیں نئے تناظر میں تصور کرنا ہوگا۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب ہندی کے مصنف ہونے کے ناطے ہم اپنی دوسری ہندوستانی زبانوں کے مقامی تخلیق کے ذرائع سے رابطہ قائم کر سکیں گے۔ سنسکرت زبان کے لیے ایوارڈ سے نوازے گئے جناردن پرساد پانڈے ’منی‘ نے کہا کہ آج کے دور میں سنسکرت کی تمام اصناف میں تحریریں لکھی جا رہی ہیں۔ اردو میں جو غزل ہے وہ گلاجیلا کے نام سے سنسکرت میں لکھی جا رہی ہے۔ سنسکرت موجودہ دور کے تمام واقعات اور مسائل سے واقف ہے اور اپنے ادب میں بڑی زرخیزی کے ساتھ ان کا اظہار کر رہی ہے۔ اردو کے معروف نقاد و شاعر انیس اشفاق نے کہا کہ تنقید کرتے ہوئے مجھے اپنی والدہ کی وہ تعلیمات یاد آتی ہیں کہ ہمیں ہمیشہ اپنے روایتی طریقوں پر یقین رکھنا چاہیے نہ کہ معاشرے کے کسی اور معیار پر۔ اس لیے جدیدیت، مابعدجدیدیت اور ردتشکیل میرے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتا۔ کسی تحریر کو پرکھنے کا میرا واحد اصول یہ ہے ’کیسے کہنا ہے‘ نہ کہ ’کیا کہنا ہے‘۔
آج کے دوسرے پروگرام تھے – یووا ساہتی، پورووتری (شمال مشرقی اور شمالی مصنفین کانفرنس)، نامور صنعت کار اور مصنف سنیل کانت منجال کے ساتھ ’فرد اور تخلیق‘۔ آج حصہ لینے والے اہم تخلیق کاروں میں شامل تھے – دھرو جیوتی بورا، مردولا گرگ، سبودھ سرکار، بیجیانند سنگھ، منیشا کلشریستھا، سریش ریتوپرنا، این کرن کمار سنگھ، ارونودے ساہا، جتیندر سریواستو، رشمی نزری اور ایس رنگناتھ، طارق چھتاری، ذاکر فیضی وغیرہ۔












