پی ایف آئی کے علاوہ اس کی معاون تنظیموں کوبھی ٹیرر لنک کا الزام عائد کرتے ہوئے سرکار نے بین کیا
نئی دہلی(ہندوستان ایکسپریس ویب ڈیسک):مرکزی حکومت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا ، اس کے اتحادیوں اوراس تنظیم سے وابستہ تمام دھڑوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ حکومت نے ان سب پر 5 سال کے لیے پابندی لگا دی ہے۔ حال ہی میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، ای ڈی اور پولیس نے ملک بھر میں پی ایف آئی کے خلاف چھاپے مارے تھے۔ منگل کو بھی چھاپوں کے دوسرے دور میں پی ایف آئی سے وابستہ 270 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
حکومت نے اپنا سرکاری گزٹ بھی شائع کر دیا ہے۔ حال ہی میں پی ایف آئی پر مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کے بعد شدت پسند ہندو تنظیموں اورحکمراں جماعت کی کے بعض ارکان کی جانب سے اس تنظیم پر پابندی لگانے کا مطالبہ اٹھنے لگا تھا۔ دوسری طرف پی ایف آئی پر این آئی اے اور ای ڈی کے چھاپے کے بعد وزارت داخلہ نے پابندی لگانے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ حکومت کے حکم کے ساتھ ہی پی ایف آئی کو یو اے پی اے کی دفعہ 35 کے تحت 42 ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے ذریعہ جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پی ایف آئی کی معاون تنظیم "رہیب انڈیا فاونڈیشن”،کیمپس فرنٹ آف انڈیا،آل انڈیا امام کونسل،نیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن،نیشنل ویمن فرنٹ، جونیئر فرنٹ امپاور انڈیافاونڈیشن اورریہیب فاونڈیشن کیرل پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔












