بیگوسرائے، 12 ستمبر (یو این آئی) مرکزی ٹیکسٹائل وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما گری راج سنگھ نے جمعہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ”اگر مساجد سے فتویٰ جاری کیا گیا تو مندروں سے بھی سخت ردعمل آئے گا“۔
آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے ملک کے ایک خاص طبقے کو ”نمک حرام“ (احسان فراموش) قرار دیا اور کہا کہ اگر مساجد سے فتوے جاری کرنا بند نہیں کیا گیا تو مندروں کی طرف سے بھی اس کا سخت ردعمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار بہار میں سب کی ترقی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
اپنے ریمارکس کو مزید بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمان تمام سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ۔ مسٹر سنگھ نے مقامی بولی میں کہا کہ اگر کوئی آپ سے مدد لیتا ہے اور بے ایمان نکلتا ہے تو اسے’نمک حرام‘(احسان فراموش) کہا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا، اگر مولوی مساجد سے فتویٰ جاری کریں گے تو مندروں سے بھی ردعمل آئے گا۔
غور طلب ہے کہ مسٹرسنگھ اپنے بیانات کی وجہ سے کئی مواقع پر تنازعات میں رہے ہیں۔ ان کا ایک سابقہ بیان اکثر زیر بحث آتا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’حکومت کی مخالفت کرنے والے مسلمانوں کو پاکستان چلے جانا چاہیے۔‘












